حیدرآباد میں 500 کروڑ کی آئل فیڈ اراضی 87 کروڑ میں نجی فرد کو دینے کا الزام، ہریش راؤ کا ریونت حکومت پر حملہ
ہریش راؤ نے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کے نام ایک کھلا خط لکھتے ہوئے حکومت کے مبینہ فیصلے پر شدید اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اراضی حیدرآباد کے آر ٹی سی کراس روڈس پر آر ٹی سی بس بلڈنگ کے روبرو واقع اجمی آباد انڈسٹریل ایریا کے پلاٹ نمبر 1 میں ہے۔
حیدرآباد: بی آر ایس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے تلنگانہ حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ حیدرآباد میں سرکاری ادارے آئل فیڈ (Oilfed) کے زیر کنٹرول 3.5 ایکڑ سے زائد قیمتی اراضی کو مبینہ طور پر کم قیمت پر ایک نجی فرد کے حوالے کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
ہریش راؤ نے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کے نام ایک کھلا خط لکھتے ہوئے حکومت کے مبینہ فیصلے پر شدید اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اراضی حیدرآباد کے آر ٹی سی کراس روڈس پر آر ٹی سی بس بلڈنگ کے روبرو واقع اجمی آباد انڈسٹریل ایریا کے پلاٹ نمبر 1 میں ہے۔
بی آر ایس لیڈر کے مطابق مذکورہ اراضی کی مالیت تقریباً 500 کروڑ روپے ہے، تاہم محکمہ صنعت نے اسے تقریباً 87 کروڑ روپے میں نجی فرد کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس فیصلے سے سرکاری خزانے کو بھاری نقصان ہوگا۔
ہریش راؤ نے مزید دعویٰ کیا کہ سرکاری ادارہ آئل فیڈ خود اس اراضی کے لیے 87 کروڑ روپے ادا کرنے کے لیے تیار تھا، اس کے باوجود حکومت نے اراضی کسی نجی فرد کو دینے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ زراعت کے وزیر تملا ناگیشور راؤ بھی اس معاملے سے واقف نہیں تھے۔ ہریش راؤ نے سوال اٹھایا کہ حکومت کے اپنے ایک ادارے کی جانب سے رقم ادا کرنے کی پیشکش کے باوجود اراضی کسی نجی فریق کو دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
ہریش راؤ نے ریونت ریڈی حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئل فیڈ کے زیر کنٹرول اراضی سے متعلق اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے فیصلہ واپس نہیں لیا تو بی آر ایس اس معاملے پر جدوجہد شروع کرے گی۔
انہوں نے حکومت سے زمین کی منتقلی کے عمل میں شفافیت برقرار رکھنے اور سرکاری اراضی کے تحفظ کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔
دوسری جانب، ہریش راؤ کے ان الزامات پر تلنگانہ حکومت اور محکمہ صنعت کی جانب سے تفصیلی وضاحت سامنے آنا باقی ہے۔