تلنگانہ

موسی ندی پل کی تعمیر سست روی کا شکار، ریونت ریڈی پر کے ٹی آر کی تنقید

کے ٹی آر نے ستمبر 2023 اور 30 اگست 2026 کی تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے پل کی تعمیر کی رفتار پر سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق ستمبر 2023 میں اس وقت کے میونسپل ایڈمنسٹریشن وزیر کی حیثیت سے انہوں نے موسٰی ندی پر نئے پل کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔

حیدرآباد: بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ (کے ٹی آر) نے موسٰی ندی پر موسیٰ رام باغ کے قریب زیر تعمیر چھ لین پل کی تعمیر میں مبینہ سست روی پر تلنگانہ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

کے ٹی آر نے ستمبر 2023 اور 30 اگست 2026 کی تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے پل کی تعمیر کی رفتار پر سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق ستمبر 2023 میں اس وقت کے میونسپل ایڈمنسٹریشن وزیر کی حیثیت سے انہوں نے موسٰی ندی پر نئے پل کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔

مجوزہ پل چھ لین پر مشتمل ہے، جس میں دونوں سمتوں میں تین تین لین رکھی گئی ہیں۔ کے ٹی آر کا کہنا ہے کہ تقریباً تین سال گزرنے کے باوجود اب تک پل کا صرف ایک حصہ، یعنی تین لین پر مشتمل ایک سمت، مکمل ہو سکی ہے۔

کے ٹی آر نے تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی، جو میونسپل ایڈمنسٹریشن کا قلمدان بھی رکھتے ہیں، پر طنز کرتے ہوئے تعمیراتی کام کی رفتار کو حکومت کی مبینہ نااہلی قرار دیا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جو حکومت ایک نسبتاً چھوٹے پل کا صرف نصف حصہ تقریباً تین سال میں مکمل کر پا رہی ہے، وہ موسٰی ندی کی مکمل تزئین و آرائش پر تقریباً ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے خرچ کرنے کے اپنے دعوے کو کس طرح عملی جامہ پہنائے گی۔

کے ٹی آر کی یہ تنقید موسٰی ریور فرنٹ منصوبے پر بی آر ایس کی جانب سے حکومت کے خلاف جاری وسیع تر سیاسی مہم کا حصہ ہے۔ بی آر ایس مسلسل منصوبے کی لاگت، تعمیراتی کاموں کی رفتار اور اس کے مختلف پہلوؤں پر حکومت سے سوالات اٹھاتی رہی ہے۔

پل کی تعمیر میں تاخیر کی اصل وجوہات اور منصوبے کی تکمیل کی متوقع مدت کے بارے میں حکومت کی جانب سے مزید وضاحت کا انتظار ہے۔