تقدیر کو گناہوں کا بہانہ بناکر ذمہ داری سے فرار ممکن نہیں: مولانا صابر پاشاہ قادری
چیئرمین لینگویجز ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے کہا ہے کہ تقدیر پر ایمان اسلام کے بنیادی عقائد میں شامل ہے، تاہم تقدیر کو گناہوں، جرائم یا بے عملی کا جواز بناکر انسان اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہوسکتا۔ انسان تقدیر کے پوشیدہ رازوں کا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے واضح احکامِ شریعت کا پابند ہے۔
حیدرآباد: چیئرمین لینگویجز ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے کہا ہے کہ تقدیر پر ایمان اسلام کے بنیادی عقائد میں شامل ہے، تاہم تقدیر کو گناہوں، جرائم یا بے عملی کا جواز بناکر انسان اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہوسکتا۔ انسان تقدیر کے پوشیدہ رازوں کا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے واضح احکامِ شریعت کا پابند ہے۔
وہ بنجارہ ہلز روڈ نمبر 12 پر لینگویجز ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے صدر دفتر میں منعقدہ ’’عوامی مسائل کا حل احکامِ شریعت کی روشنی میں‘‘ پروگرام سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر عوام کی جانب سے تقدیر، اعمال، خودکشی، رزق اور انسانی اختیار سے متعلق مختلف دینی و شرعی سوالات پیش کیے گئے، جن کے مولانا نے جوابات دیے۔
مولانا صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل، شعور، ارادہ اور اختیار عطا فرمایا ہے اور اسی اختیار کی بنیاد پر اسے احکامِ شریعت کا مکلف بنایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو ازل سے معلوم ہے کہ انسان اپنے اختیار سے کیا عمل کرے گا، لیکن اللہ تعالیٰ کا کسی عمل کا پہلے سے علم رکھنا انسان کو اس عمل پر مجبور نہیں کرتا۔
انہوں نے کہا کہ ’’ہم تقدیر کے مکلف نہیں بلکہ احکامِ شریعت کے پابند ہیں‘‘۔ انسان کو نماز، روزہ، حلال و حرام، والدین کے حقوق اور دیگر شرعی احکام کا علم دیا گیا ہے، اس لیے ان احکام پر عمل کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔ تقدیر کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور انسان اس غیبی نوشتہ سے واقف نہیں۔
مولانا نے کہا کہ بعض لوگ اپنے گناہوں اور جرائم کو تقدیر سے منسوب کرکے اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کوئی ظلم کو تقدیر قرار دیتا ہے، کوئی بے عملی کو قسمت کا نام دیتا ہے اور کوئی جرم کے بعد یہ کہتا ہے کہ ’’یہ میری تقدیر میں لکھا تھا‘‘۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب انسان اپنی تقدیر کا علم ہی نہیں رکھتا تو اسے اپنے گناہ کے جواز کے طور پر کیسے پیش کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیاوی معاملات میں انسان اپنی قسمت کا بہانہ بناکر کوشش ترک نہیں کرتا۔ روزگار کے لیے محنت، تعلیم کے لیے جدوجہد، بیماری میں علاج اور کاروبار میں منصوبہ بندی کرتا ہے۔ اسی طرح آخرت کی کامیابی کے لیے بھی نیک اعمال اور مسلسل جدوجہد ضروری ہے۔
قرآنِ کریم کی آیت ’’وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انسان کے لیے وہی ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔ تقدیر پر ایمان کا مطلب کوشش چھوڑ دینا نہیں بلکہ اپنی استطاعت کے مطابق جدوجہد کرکے نتیجہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا ہے۔
خودکشی اور تقدیر
خودکشی سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے مولانا صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ انسان کی موت کا وقت اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے سے موجود ہونا اور کسی شخص کا اپنی جان خود لینا دو الگ معاملات ہیں۔ شریعت نے انسانی جان کو محترم قرار دیا ہے اور خودکشی سے سختی سے منع کیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر تقدیر کو گناہوں اور جرائم کا جواز تسلیم کرلیا جائے تو ہر مجرم اپنے جرم سے بری ہونے کا دعویٰ کرسکتا ہے۔ قاتل قتل کو، چور چوری کو اور ظالم ظلم کو تقدیر سے منسوب کرسکتا ہے، لیکن شریعت کسی مجرم کو اس طرح کا جواز فراہم نہیں کرتی۔
رزق مقدر، مگر حلال ذریعہ ضروری
رزق کے بارے میں مولانا نے کہا کہ رزق اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، لیکن انسان کو اسے حاصل کرنے کے لیے حلال ذرائع اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سود، رشوت، چوری یا خیانت کے ذریعے حاصل کیا گیا مال اس بنیاد پر جائز نہیں ہوسکتا کہ ’’رزق تو مقدر تھا‘‘۔
انہوں نے کہا کہ رزق اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، لیکن رزق کمانے کا راستہ انسان کے اختیار اور شریعت کی حدود میں ہونا چاہیے۔
جبر و قدر میں اعتدال ضروری
مولانا صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ اسلام انسان کو نہ مکمل طور پر خودمختار قرار دیتا ہے اور نہ ایسا مجبورِ محض کہ اس کے اعمال کی کوئی ذمہ داری نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو خیر و شر میں فرق کرنے کی صلاحیت، ارادہ اور اختیار عطا کیا اور انبیائے کرامؑ کے ذریعے ہدایت پہنچائی۔
انہوں نے کہا کہ اگر انسان بالکل بے اختیار ہوتا تو امر و نہی، ثواب و عذاب اور جزا و سزا کا پورا نظام بے معنی ہوجاتا۔ انسان جس راستے کا انتخاب کرتا ہے، اسی کے مطابق اسے جواب دہ ہونا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ تقدیر کے غلط تصور سے معاشرے میں بے عملی، مایوسی اور سماجی برائیوں کو فروغ مل سکتا ہے۔ غربت، جہالت، بے روزگاری، ظلم، رشوت اور دیگر برائیوں کے خاتمے کے لیے افراد کو اپنی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔
علامہ اقبالؒ کے اشعار کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا نے کہا:
’’تقدیر کے پابند ہیں جمادات و نباتات
مومن فقط احکامِ الٰہی کا ہے پابند‘‘
انہوں نے کہا کہ تقدیر پر ایمان انسان کو مایوس نہیں کرتا بلکہ توکل، صبر اور استقامت پیدا کرتا ہے۔ کامیابی ملنے پر شکر، ناکامی پر صبر اور مشکلات میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا ہی تقدیر کے صحیح عقیدے کا عملی اثر ہے۔
آخر میں مولانا صابر پاشاہ قادری نے عوام پر زور دیا کہ وہ تقدیر کے ان رازوں میں الجھنے کے بجائے جن کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، ان شرعی احکام پر توجہ دیں جو واضح طور پر ان کے سامنے موجود ہیں۔ انہوں نے نماز کی پابندی، حلال روزی، والدین کے حقوق، اولاد کی تربیت، ظلم سے اجتناب اور معاشرے کی اصلاح کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی تلقین کی۔
انہوں نے کہا کہ تقدیر اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت کا حصہ ہے، جبکہ انسان کی ذمہ داری اپنے اختیار میں موجود ہر لمحے کو نیکی، اصلاح، خدمت اور اطاعتِ الٰہی میں استعمال کرنا ہے۔