حیدرآباد

جمعیۃ علماء کی منشیات کے خلاف تحریک میں حصہ لیں: مولانا محمد عرفان قاسمی کا بیان

ریاستی جمعیۃ علماء تلنگانہ کے زیر اہتمام اور جمعیۃ علماء ضلع سنگاریڈی کے زیر انتظام، مدرسہ عربیہ نعمانیہ سنگاریڈی میں 17 ستمبر 2024 کو بعد نماز مغرب ایک عظیم الشان اصلاح معاشرہ اجلاس منعقد ہوا۔

حیدرآباد: ریاستی جمعیۃ علماء تلنگانہ کے زیر اہتمام اور جمعیۃ علماء ضلع سنگاریڈی کے زیر انتظام، مدرسہ عربیہ نعمانیہ سنگاریڈی میں 17 ستمبر 2024 کو بعد نماز مغرب ایک عظیم الشان اصلاح معاشرہ اجلاس منعقد ہوا۔

متعلقہ خبریں
مدرسہ صفۃ المسلمین ناچارم ولیج کا 14واں عظیم الشان اجلاسِ عام منعقد، فضائلِ قرآن پر خطابات، حفاظ کی دستاربندی
اللہ کی رضا مندی والدین کی رضا مندی میں ہے: حضرت مولانا حافظ پیر شبیر احمد کا بیان
چنچل گوڑہ میں شبِ برات کے موقع پر مرکزی جلسہ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، 3 فروری کو انعقاد
پوسٹ میٹرک اسکالرشپ درخواستوں کی تاریخ میں توسیع، آخری تاریخ 31 مارچ 2026 مقرر
غریبوں کو مکانات نہ ملنے پر آواز تنظیم کا کلکٹر سے رجوع

اس اجلاس میں مقامی علماء کرام اور جمعیۃ کے ذمہ داران سمیت ریاستی جمعیۃ علماء کے جنرل سکریٹری حافظ پیر خلیق احمد صابر اور مہمان خصوصی ترجمان دیوبند حضرت مولانا محمد عرفان قاسمی شریک ہوئے۔

جنرل سکریٹری حافظ پیر خلیق احمد صابر نے اپنے خطاب میں ملت اسلامیہ کے مسائل پر روشنی ڈالی، جن میں مسلم نوجوانوں کا منشیات کے استعمال کا مسئلہ، حالیہ ہندو مسلم فسادات، اور وقف ایکٹ 2024 جیسے مسائل شامل تھے۔

انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ جمعیۃ علماء کی منشیات کے خلاف تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنی قوم کو اس لعنت سے محفوظ رکھیں۔ انہوں نے شادی بیاہ کی فضول رسومات سے بھی پرہیز کرنے کی ترغیب دی اور کہا کہ انہی ناجائز رسومات اور اسراف کی وجہ سے کئی لڑکیاں بن بیاہی ہیں۔

مولانا محمد عرفان قاسمی نے اپنے خطاب میں دین اسلام کے بنیادی اصول، توحید و رسالت، اور نماز کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ نماز کسی صورت معاف نہیں ہوتی اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ انہوں نے امت کو دھوکہ بازوں اور مکاروں سے دور رہنے کی بھی نصیحت کی۔

اس موقع پر مدرسہ عربیہ نعمانیہ کے چار خوش نصیب طلباء کی تکمیل حفظ کی تقریب بھی منعقد ہوئی۔ مدرسہ کے ناظم اور صدر جمعیۃ علماء ضلع سنگاریڈی مفتی محمد اسلم سلطان نے حفاظ اور ان کے والدین کو مبارکباد پیش کی اور حفاظ کو نصیحت کی کہ وہ روزانہ تلاوت قرآن کا معمول بنائیں اور اپنے اساتذہ سے ہمیشہ جڑے رہیں۔