تلنگانہ

کے ٹی آر کا ریونت ریڈی پر بڑا حملہ، ایک کے بعد ایک گھوٹالوں کے انکشاف کا دعویٰ

سابق وزیر اور بی آر ایس کے کارگذار صدر کے ٹی راماراؤ (کے ٹی آر) نے تلنگانہ کانگریس حکومت اور وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کے خلاف سخت الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک کے بعد ایک گھوٹالے سامنے آ رہے ہیں۔

حیدرآباد: سابق وزیر اور بی آر ایس کے کارگذار صدر کے ٹی راماراؤ (کے ٹی آر) نے تلنگانہ کانگریس حکومت اور وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کے خلاف سخت الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک کے بعد ایک گھوٹالے سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت کے دور میں مبینہ بدعنوانیوں کا پردہ فاش ہو رہا ہے اور بی آر ایس نے کئی بڑے مالی نقصانات کو روکا ہے۔

متعلقہ خبریں
چیف منسٹر پر کذب بیانی کے ٹی آر کا الزام
سنگارینی میں معیار کو اولین ترجیح، مقررہ اہداف ہر حال میں حاصل کیے جائیں: ڈی کرشنا بھاسکر
سوشل میڈیا پوسٹ، کے ٹی آر کے خلاف 2کیس درج
ترجیحی شعبوں میں قرضوں کی منظوری یقینی بنائی جائے: ضلع کلکٹر ہری چندنہ داسری
پوسٹ میٹرک اسکالرشپ درخواستوں کی تاریخ میں توسیع، آخری تاریخ 31 مارچ 2026 مقرر

حیدرآباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ بی آر ایس نے ماضی میں موسیٰ ندی منصوبے کے نام پر لاکھوں کروڑ روپے کی لوٹ کو روکا اور موجودہ حکومت کے تحت ہونے والی کئی بے ضابطگیوں کو بے نقاب کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت سے جڑے کرپشن معاملات آہستہ آہستہ عوام کے سامنے آ رہے ہیں۔

کے ٹی آر نے کہا کہ بی آر ایس نے لگچرلہ میں قبائلی زمینوں پر قبضے کی کوششوں کو ناکام بنایا، جو مبینہ طور پر ایک “داماد کی کمپنی” کے فائدے کے لیے کی جا رہی تھیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہِل پالیسی میں لاکھوں کروڑ روپے کے گھوٹالے کو بھی ان کی پارٹی نے بے نقاب کیا، جبکہ سنگارینی میں مبینہ بے ضابطگیوں کو بھی عوامی سطح پر لایا گیا۔

سابق وزیر نے ایک بڑا الزام عائد کرتے ہوئے کے ایل ایس آر انفرا کو وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی مبینہ بےنامی کمپنی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ آف انڈیا نے 23 جنوری کو مرکز اور ریاست دونوں حکومتوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ دیوالیہ قرار دی گئی کمپنی کو کن بنیادوں پر ٹھیکے دیے گئے۔ کے ٹی آر کے مطابق، کے ایل ایس آر انفرا کو 6,000 کروڑ روپے کے ٹھیکے دیے گئے، کودنگل لفٹ ایریگیشن پروجیکٹ اسی کمپنی کے حوالے کیا گیا، اور جولائی 2023 سے دیوالیہ ہونے کے باوجود کمپنی کو بڑے کام سونپے جاتے رہے۔

کے ٹی آر نے یہ بھی یاد دلایا کہ ماضی میں انکم ٹیکس چھاپوں کے دوران ریونت ریڈی سے جڑی مبینہ بےنامی سرمایہ کاری پر شکوک ظاہر کیے گئے تھے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ 2018 میں انکم ٹیکس محکمہ نے ریونت ریڈی اور کے ایل ایس آر انفرا کے درمیان بےنامی روابط کا ذکر کیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریونت ریڈی کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد ہی کے ایل ایس آر انفرا کو غیر معمولی فائدہ پہنچا۔

داؤس کے دورے پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ مبینہ بےنامی سرگرمیوں کو وہیں سے سنبھالا جا رہا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ داؤس دورے کے دوران وزیر اعلیٰ کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں اور یہ دورہ بےنامی معاملات کو تحفظ دینے کے لیے کیا گیا۔ کے ٹی آر نے مطالبہ کیا کہ کے ایل ایس آر انفرا کو دیے گئے تمام ٹھیکے فوری طور پر منسوخ کیے جائیں اور کانگریس کے ریاستی صدر مہیش کمار گوڑ اس معاملے پر وضاحت پیش کریں۔

کے ٹی آر نے مزید الزام لگایا کہ کے ایل ایس آر انفرا سے رقم وزیر اعلیٰ کے اہل خانہ سے وابستہ کمپنیوں کو منتقل کی گئی۔ انہوں نے کانگریس قیادت سے اس پر کھلا جواب دینے کا مطالبہ کیا۔

پارٹی سے منحرف ہونے والے اراکین اسمبلی کے معاملے پر کے ٹی آر نے فیصلے کو “کامیڈی سیریل” قرار دیا۔ انہوں نے اسپیکر پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جگتیال کے ایم ایل اے سنجے کو خود وزیر اعلیٰ نے اسکارف پہنا کر خوش آمدید کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کا حتمی فیصلہ اب عدالت میں ہوگا۔

آخر میں کے ٹی آر نے واضح کیا کہ بی آر ایس مبینہ بدعنوانیوں کو بے نقاب کرتی رہے گی اور جب تک جواب دہی طے نہیں ہو جاتی، قانونی جنگ جاری رکھی جائے گی۔