آندھراپردیش

کرنول: ریلوے لائن کے لئے 350 کروڑ کی لاگت سے بائی پاس کی تعمیر

اے پی کے ضلع کرنول میں ریلوے کے نظام کو جدید بنانے اور ٹریفک کے مسائل کو حل کرنے حکومت اور ریلوے حکام نے بڑے پراجکٹس کا آغاز کر دیا ہے۔ ان اقدامات سے نہ صرف مسافروں کا وقت بچ پائے گا بلکہ ٹریفک سے بھی نجات ملے گی۔

حیدرآباد: اے پی کے ضلع کرنول میں ریلوے کے نظام کو جدید بنانے اور ٹریفک کے مسائل کو حل کرنے حکومت اور ریلوے حکام نے بڑے پراجکٹس کا آغاز کر دیا ہے۔ ان اقدامات سے نہ صرف مسافروں کا وقت بچ پائے گا بلکہ ٹریفک سے بھی نجات ملے گی۔

متعلقہ خبریں
دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج کامیاب زندگی کی ضمانت ہے، وزیرِ اقلیتی بہبود و قانون کا جامعۃ المؤمنات میں خطاب
بچوں کے سامنے ہوم گارڈ کا خاتون کے ساتھ ’مجرا‘ — ویڈیو وائرل ہونے کےبعد محکمہ نے فوراً ڈیوٹی سے ہٹا دیا
اےپی کے وجیانگرم میں نو بیاہتا جوڑا مشتبہ حالات میں مردہ پایاگیا
آکاش ایجوکیشنل سروسز نے تلگو زبان میں یوٹیوب چینل کا آغاز کر کے امیدواروں کیلئے تعلیمی رسائی بڑھا دی
سمہا چلم اپنا سوامی مندر میں دیوار گرنے کا واقعہ، سافٹ ویر انجینئر جواڑا سمیت 8 افراد ہلاک


کرنول ضلع کے چپاگیری منڈل میں ملاپا گیٹ سے گنتکل ایسٹ ریلوے اسٹیشن تک ایک نیا ریل اوورتعمیر کیا جائے گا۔


اس 10 کلومیٹر طویل پل کے لئے 350 کروڑ روپئے منظور کئے گئے ہیں۔ فی الحال سروے کا کام تیزی سے جاری ہے۔ اس پل کی تعمیر سے بیلاری اور دھون کے درمیان ریل کا سفر آسان ہو جائے گا۔ گنتکل جنکشن پر ٹرینوں کا غیر ضروری انتظار ختم ہوگا کیونکہ بیلاری اور ادونی سے آنے والی مال گاڑیاں اسٹیشن میں داخل ہوئے بغیر براہ راست گزر سکیں گی۔ ریاست میں گڈور کے بعد یہ اپنی نوعیت کا تیسرا پل ہوگا۔


گنتکل جنکشن پر روزانہ 58 ایکسپریس ٹرینیں اور 100 سے زائد مال گاڑیاں آتی ہیں۔ پلیٹ فارمس کی کمی کی وجہ سے ٹرینوں کو اکثر اسٹیشن کے باہر کھڑا کرنا پڑتا ہے جس سے نہ صرف تاخیر ہوتی ہے بلکہ ٹرینوں میں چوری کے واقعات بھی پیش آتے ہیں۔ ریلوے انجینئرس کے مطابق ریل اوور ریل پل ان تمام مسائل کا حل ثابت ہوگا۔


شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک اور بھاری گاڑیوں کے دباؤ کو کم کرنے کے لئے حکام ایک جامع ماسٹر پلان پر کام کر رہے ہیں۔ شہر کے گرد 17 کلومیٹر طویل اور 200 فٹ چوڑی رنگ روڈ تعمیر کرنے کی تجویز ہے۔ بھاری گاڑیوں اور بسوں کو شہر کے اندر آنے کے بجائے براہ راست بائی پاس سے رنگ روڈ کی طرف موڑ دیا جائے گا۔

میونسپل کارپوریشن اور آر اینڈ بی حکام نے مجوزہ مقامات کا معائنہ کر لیا ہے۔ آئندہ تین مہینوں میں تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ تیار کر لی جائے گی جس کے بعد فنڈس کی منظوری کے ساتھ ہی کام شروع ہو جائے گا۔