حیدرآباد

میڈی گڈہ بیارج کی مرمت کرانے حکومت کا منصوبہ

ریاستی وزیر آبپاشی این اتم کمار ریڈی اور دیگر نے ہفتہ کے روز ایک جائزہ اجلاس میں این ڈی ایس اے کی سفارشات کا جائزۃ لیا اور اس بارے میں معلومات حاصل کیں۔

حیدرآباد: حکومت تلنگانہ، نیشنل ڈیم سیفٹی اتھاریٹی (این ڈی ایس اے) کی سفارش کی اساس پر کالیشورم پروجیکٹ کے میڈی گڈپ بیارج کی مرمتی کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ مانسون سیزن کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت، اس بیارج کے مرمتی کام شروع کرنے کا فیصلہ لے سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں
ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے حملوں پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا اظہارِ تشویش، ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان
کے ٹی آر کے خلاف کیس درج
حکومت تمام مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کیلئے پر عزم: سریدھر بابو
گورنمنٹ ڈگری کالج فلک نما میں انا–اکّا مینٹورشپ انٹرن شپ تربیتی پروگرام کا آغاز
محرم الحرام 2026 کے انتظامات پر بی جے پی وفد کی کمشنر پولیس حیدرآباد سے ملاقات

توقع ہے کہ یہ فیصلہ کابینہ کے آئندہ اجلاس میں لیا جائے گا۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے اب لگتا ہے کہ محکمہ آبپاشی کے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ مانسون کے دوران بیارج کو مزید نقصان پہونچنے سے روکنے کیلئے فوری اقدامات کریں۔

مرمتی کاموں کے سبب آبپاشی ضروریات کی تکمیل کیلئے بیارج میں پانی کے ذخیرہ میں مددملے گی۔ اس مسئلہ پر ہفتہ کے روز کابینہ کے اجلاس میں غور وخوص کیا جانے والا ھتا مگر الیکشن کمیشن کی اجازت نہ ملنے پر کابینہ کا جلاس ملتوی کردیا گیا۔

 این ایس ڈی اے نے حالیہ دنوں حکومت کو عبوری رپورٹ پیش کی جس میں میڈی گڈہ اور سنڈیلا بیارجس کے تباہ حصوں کی مرمت کرانے ان بیارجس کو عارضی طور پر کالیشورم لفٹ اریگشن پروجیکٹ اہم ڈھانچے میں،گزشتہ سال اکتوبر میں میڈی گڈہ بیارج کے ستون، زیر آب آگئے تھے۔

فوری طور پر معائنہ کیلئے این ڈی ایس اے نے ماہرین کی ایک ٹیم روانہ کی تھی اس ٹیم کی سفارش پر بیارج کو پانی سے خالی کردیا گیا۔ ریاستی وزیر آبپاشی این اتم کمار ریڈی اور دیگر نے ہفتہ کے روز ایک جائزہ اجلاس میں این ڈی ایس اے کی سفارشات کا جائزۃ لیا اور اس بارے میں معلومات حاصل کیں۔

 اس اجلاس میں وزراء ٹی ناگیشور راؤ، پونگو لیٹی سرینواس ریڈی، جوپلی کرشنا راؤ، کونڈا سریکھا اور چیف منسرٹ کے ایڈوائزر وٹیم نریندر ریڈی شریک تھے۔ اتم کمار ریڈی نے چیف منسٹر اور وزراء کو این ڈی ایس اے کی سفارشات کے بارے میں تفصیلی طور پر بتادیا ہے۔