بین الاقوامی

سعودی عرب میں غیر ملکیوں کیلئے بڑا فیصلہ، اب یہ کام ہوگا آسان

وزارت کے مطابق خاندان کے داخلے کا ویزا اس وقت حاصل کیا جا سکے گا جب خاندان کے سربراہ کے ورک ویزا سے متعلق تمام کارروائی مکمل ہو جائے گی اور مقررہ شرائط پوری کر دی جائیں گی۔

ریاض: سعودی عرب میں مقیم یا ملازمت کے لیے آنے والے اعلیٰ مہارت رکھنے والے غیر ملکی پیشہ ور افراد کے لیے اہم سہولت کا اعلان کیا گیا ہے۔ سعودی وزارت داخلہ کے مطابق اب ایسے افراد ورک ویزا کی کارروائی مکمل ہونے کے ساتھ ہی اپنے افراد خاندان کے ویزا کی کارروائی بھی شروع کروا سکیں گے۔

وزارت داخلہ نے منگل، 6 اکتوبر کو جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں کہا کہ اس اقدام کا مقصد مملکت میں مقیم افراد کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ نئی سہولت خاص طور پر اعلیٰ مہارت رکھنے والے غیر ملکی پیشہ ور افراد کے لیے متعارف کرائی گئی ہے۔

نئے ضابطے کے تحت خاندان کے سربراہ اپنے اہلیہ، 25 سال سے کم عمر بیٹوں اور غیر شادی شدہ بیٹیوں کو سعودی عرب لا سکتے ہیں۔

وزارت کے مطابق خاندان کے داخلے کا ویزا اس وقت حاصل کیا جا سکے گا جب خاندان کے سربراہ کے ورک ویزا سے متعلق تمام کارروائی مکمل ہو جائے گی اور مقررہ شرائط پوری کر دی جائیں گی۔

سعودی عرب پہنچنے کے بعد اہل خانہ کے اقامہ اور رہائشی اجازت نامے سے متعلق کارروائی مکمل کی جا سکے گی۔ وزارت نے واضح کیا کہ یہ تمام عمل مملکت کے نافذ قوانین اور ضوابط کے مطابق ہوگا۔

اس سے قبل عام طور پر غیر ملکی کارکن کو سعودی عرب میں پہلے سے موجود ہونا اور اس کے پاس ایک درست اقامہ ہونا ضروری تھا، جس کے بعد وہ اپنے اہل خانہ کے لیے فیملی ریزیڈنس ویزا کی درخواست دے سکتا تھا۔

2024 کی سعودی نئے آنے والوں کی گائیڈ کے مطابق اہل خانہ میں عموماً شریک حیات، 18 سال سے کم عمر بیٹے اور غیر شادی شدہ بیٹیاں شامل تھیں۔ اس کے لیے درست اقامہ، مخصوص پیشہ اور کم از کم 3,500 سعودی ریال ماہانہ تنخواہ جیسی شرائط بھی درج تھیں۔

وزارت داخلہ کی سابقہ رہنمائی کے مطابق خاندان کے سربراہ کا اقامہ بیوی اور قانونی طور پر نابالغ بچوں کا احاطہ کرتا تھا، جبکہ 18 سال سے زیادہ عمر کے بیٹوں یا بیٹیوں کے لیے الگ ویزا درکار ہوتا تھا۔

نئے اقدام سے سعودی عرب میں ملازمت کے لیے آنے والے اہل اور اعلیٰ مہارت رکھنے والے غیر ملکی پیشہ ور افراد کو اپنے خاندان کو مملکت منتقل کرنے کے عمل میں مزید سہولت ملنے کی توقع ہے۔