تلنگانہ میں بجلی صارفین کیلئے بڑی خبر
یہ شکایت وکیل ینم بالا چندر ریڈی نے داخل کی ہے۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے یہ رقم نومبر 2026 سے ماہانہ بجلی کے بلوں میں اضافی چارجز کے ذریعے وصول کی جائے گی اور یہ سلسلہ دو سال سے زائد عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔
حیدرآباد: تلنگانہ حکومت کی جانب سے غیر زرعی بجلی صارفین سے 5,420 کروڑ روپے کے ٹرو اَپ چارجز وصول کرنے کی تجویز کے خلاف حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل کی شکایت کو قومی انسانی حقوق کمیشن (NHRC) نے قبول کرلیا ہے۔
یہ شکایت وکیل ینم بالا چندر ریڈی نے داخل کی ہے۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے یہ رقم نومبر 2026 سے ماہانہ بجلی کے بلوں میں اضافی چارجز کے ذریعے وصول کی جائے گی اور یہ سلسلہ دو سال سے زائد عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔
ٹرو اَپ چارجز سے مراد بجلی کی فراہمی پر آنے والی اصل لاگت اور صارفین سے وصول کی گئی رقم کے درمیان فرق ہے۔ شکایت کنندہ نے مجوزہ وصولی کو موجودہ صارفین پر اضافی مالی بوجھ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا اثر غریب اور متوسط طبقے کے خاندانوں، چھوٹے کاروباری اداروں اور دیگر کمزور طبقات پر زیادہ پڑ سکتا ہے۔
شکایت میں مزید کہا گیا کہ تاریخی مالی ایڈجسٹمنٹ کا بوجھ موجودہ صارفین پر ڈالنے سے پہلے ان کی معاشی استطاعت اور کمزور طبقات پر پڑنے والے اثرات کو مناسب طور پر مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ ریڈی نے اس معاملے کو آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت مساوات اور غیر امتیازی حکومتی کارروائی کے حق سے بھی جوڑا ہے۔
ان کے مطابق اضافی چارجز کی ادائیگی میں مشکلات کے نتیجے میں صارفین پر بقایاجات بڑھ سکتے ہیں اور بعض صورتوں میں بجلی منقطع ہونے کا خطرہ بھی پیدا ہوسکتا ہے، جس سے باعزت زندگی گزارنے کے حق پر اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔
مجوزہ نظام کے تحت صارفین سے 30 پیسے فی یونٹ اضافی وصول کیے جانے کی بات کہی گئی ہے، جسے بعد میں 50 پیسے فی یونٹ تک بڑھایا جاسکتا ہے۔
شکایت کنندہ نے این ایچ آر سی سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی حقوق اور صارفین پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ مکمل ہونے تک مجوزہ وصولی کو مؤخر کرنے کی ہدایت دی جائے۔
انہوں نے حکومت سے عوامی نوٹس جاری کرنے اور شہریوں کو اپنی رائے اور اعتراضات پیش کرنے کے لیے کم از کم تین ماہ کا وقت دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
ریڈی نے یہ بھی درخواست کی ہے کہ صرف ٹرو اَپ چارجز کی عدم ادائیگی کی بنیاد پر کسی صارف کی بجلی منقطع نہ کی جائے۔