کرناٹک میں جعلی ادویات کا کاروبار بے نقاب، 5 کروڑ سے زائد مالیت کی مشتبہ جعلی ادویات ضبط
ابتدائی معلومات سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ ادویات ہماچل پردیش اور تلنگانہ جیسی ریاستوں میں تیار کی جاتی تھیں اور پھر ان پر دوبارہ لیبل لگانے اور فروخت کرنے کے لیے کرناٹک لائی جاتی تھیں۔
بنگلورو : کرناٹک میں مشتبہ جعلی ادویات کے مافیا پر شکنجہ کسنے کے لیے ریاست کے وزیر صحت یو ٹی قادر نے ہفتہ کو ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دینے کا اعلان کیا۔ یہ ٹیم جعلی ادویات تیار کرنے، ان پر دوبارہ لیبل لگانے اور انہیں تقسیم کرنے والے بین ریاستی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرے گی۔
یہ کارروائی ایک ہی مقام سے پانچ کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کی مشتبہ جعلی ادویات ضبط کیے جانے کے بعد کی گئی ہے۔ اس ضبطی سے خدشہ بڑھ گیا ہے کہ اس گروہ کے تار بنگلورو اور کرناٹک سے باہر تک پھیلے ہوئے ہیں۔
مسٹر قادر نے کہا کہ جس بڑی مقدار میں ادویات برآمد ہوئی ہیں، اس سے واضح ہے کہ یہ غیر قانونی کاروبار کسی ایک ضلع تک محدود نہیں ہوسکتا۔ ابتدائی معلومات سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ ادویات ہماچل پردیش اور تلنگانہ جیسی ریاستوں میں تیار کی جاتی تھیں اور پھر ان پر دوبارہ لیبل لگانے اور فروخت کرنے کے لیے کرناٹک لائی جاتی تھیں۔
انہوں نے کہاکہ ’’کاروبار کا دائرہ ایک بڑے نیٹ ورک کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ دوسری جگہوں پر تیار کی گئی جعلی ادویات یہاں لاکر ان پر معروف کثیر ملکی کمپنیوں کے لیبل چسپاں کیے جاتے تھے اور پھر انہیں بہت کم قیمتوں پر فروخت کیا جاتا تھا۔‘‘
وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار کی ہدایت پر تشکیل دی گئی ایس آئی ٹی میں پولیس اور محکمہ ادویات کنٹرول کے افسران شامل ہیں۔ یہ ٹیم ادویات کی تیاری، نقل و حمل اور لیبل لگانے سے لے کر دلالوں، دوا کی دکانوں اور اسپتالوں تک پورے نیٹ ورک کی جانچ کرے گی اور یہ بھی معلوم کرے گی کہ ان مشتبہ جعلی ادویات کی سپلائی کہاں کہاں کی گئی تھی۔
مسٹر قادر نے بتایا کہ انتظامیہ مرکزی مشتبہ ملزم پرشانت کی بھی تلاش کر رہی ہے، جس کے دبئی میں ہونے کا شبہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی گروہ کے دیگر رابطوں کا بھی پتہ لگانے کی کوشش جاری ہے۔
وزیر نے واضح کیا کہ تحقیقات صرف بنگلورو تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ منگلورو اور دیگر اضلاع سے جڑے ممکنہ روابط کی بھی جانچ کی جائے گی۔ مسٹر قادر نے کہا کہ ہنگامی حالات میں استعمال ہونے والی ادویات میں مشتبہ جعلی ادویات کی موجودگی سے تحقیقات کی سنگینی مزید بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ذمہ دار افراد کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔