کرناٹک

آر ایس ایس   کا رجسٹریشن معاملہ کانگریس اور بی جے پی کے درمیان سیاسی جنگ میں تبدیل

اگر رجسٹریشن ہوجائے تو اکاؤنٹس اور فنڈز کے ذرائع کی جانچ کی جاسکتی ہے۔ کوئی بھی تنظیم ایسی جانچ پڑتال سے باہر کیوں رہے

بنگلورو :   کرناٹک میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی رجسٹریشن کے معاملے پر سیاسی تنازع کانگریس اور بی جے پی کے درمیان براہِ راست محاذ آرائی میں تبدیل ہوگیا ہے۔ حکمراں جماعت نے سوال اٹھایا ہے کہ یہ تنظیم باضابطہ رجسٹریشن اور مالی جانچ پڑتال سے باہر کیوں رہے۔

یہ معاملہ اس وقت مزید نمایاں ہوا جب بی جے پی رہنما بی ایل سنتوش نے مبینہ طور پر کہا کہ آر ایس ایس رجسٹرڈ نہیں ہے اور مستقبل میں بھی رجسٹریشن نہیں کرائے گی۔

کرناٹک کے وزیر وجے آنند کاشپّنّور نے اس بیان کو بنیاد بناکر تنظیم کی مالی شفافیت پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری طور پر قانونی حیثیت اور جواب دہی چاہنے والی کسی بھی تنظیم کے لیے رجسٹریشن ضروری ہے۔

انہوں نے سوال کیاکہ ’’اگر رجسٹریشن ہوجائے تو اکاؤنٹس اور فنڈز کے ذرائع کی جانچ کی جاسکتی ہے۔ کوئی بھی تنظیم ایسی جانچ پڑتال سے باہر کیوں رہے؟‘‘ انہوں نے آر ایس ایس اور بی جے پی کے مالی معاملات کی بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

کاشپّنّور نے بی جے پی کے مالی وسائل کے ذرائع کی جانچ کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ سیاسی تنظیموں کو جواب دہی سے مستثنیٰ نہیں ہونا چاہیے۔

کانگریس نے اس حملے کو مزید تیز کرتے ہوئے وزیر پریانک کھرگے نے سرکاری عمارتوں اور عوامی املاک کے نجی تنظیموں کے استعمال کو منظم کرنے سے متعلق مجوزہ قانون کی بی جے پی کی مخالفت پر سوال اٹھایا۔

کھرگے نے پوچھا کہ زیادہ شفافیت اور جواب دہی یقینی بنانے کے مقصد سے بنائے جانے والے قانون پر بی جے پی کو تشویش کیوں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یکساں قانونی معیار ہر تنظیم پر لاگو ہونا چاہیے۔

دوسری جانب بی جے پی نے کانگریس حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مجوزہ عوامی املاک سے متعلق قانون کے ذریعے آر ایس ایس کو نشانہ بناکر اس کی سرگرمیوں کو محدود کرنا چاہتی ہے۔

اس طرح یہ تنازع محض رجسٹریشن کے سوال سے آگے بڑھ گیا ہے۔ کانگریس نے آر ایس ایس کے مالی معاملات اور جواب دہی کو سیاسی جنگ کا مرکزی موضوع بنا دیا ہے، جبکہ بی جے پی حکومت کے اقدام کو تنظیم کی سرگرمیوں پر قدغن لگانے کی کوشش قرار دے رہی ہے۔