گورنر کے خطبہ میں مائنا ریٹی ڈیکلریشن نظر انداز
کانگریس پارٹی کی جانب سے انتخابی مہم کے دوران حیدرآباد سٹی کنونشن سنٹرنامپلی میں صد ر ٹی پی سی سی ریونت ریڈی نے مائنا ریٹی ڈیکلریشن جاری کیا تھا اوریہ ڈیکلریشن سابق وزیر محمد علی شبیر کی صدارت میں قائم کردہ کمیٹی نے تیار کیا تھا۔

حیدرآباد: گورنر تلنگانہ ڈاکٹر تمیلی سوندرا راجن جنہوں نے آج قانون ساز کونسل و اسمبلی کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا، نے کانگریس حکومت کی پالیسیوں، انتخابی منشور اور مجوزہ ترقیاتی وفلاح وبہبود پر مشتمل خطبہ دیا ہے۔
اس میں اقلیتوں کی فلاح وبہبود سے متعلق کانگریس کی جانب سے جاری کردہ مائنار یٹی ڈیکلریشن کا کوئی تذکرہ شامل نہیں ہے۔ جبکہ کانگریس کی جانب سے ایس سی، ایس ٹی ڈیکلریشن، کسان ڈیکلریشن، بی سی ڈیکلریشن اور یوتھ ڈیکلریشن پر عمل آوری کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ کانگریس پارٹی کی جانب سے انتخابی مہم کے دوران حیدرآباد سٹی کنونشن سنٹرنامپلی میں صد ر ٹی پی سی سی ریونت ریڈی نے مائنا ریٹی ڈیکلریشن جاری کیا تھا اوریہ ڈیکلریشن سابق وزیر محمد علی شبیر کی صدارت میں قائم کردہ کمیٹی نے تیار کیا تھا۔
گورنر کا خطبہ کسی بھی حکومت کیلئے ایک اہمیت رکھتا ہے۔ اس خطبہ میں اقلیتوں کو نظر انداز کرنا افسوسناک ہے۔ اس لئیحکومت نے گورنر کی تقریر کو کل ہی ریاستی کابینہ میں باقاعدہ منظوری دی گئی۔
چونکہ ریاستی کابینہ میں کوئی مسلم نمائندگی نہیں ہے اس لئے اقلیتوں کے اس اہم ایجنڈہ کو گورنر کی تقریر میں شامل کرنے کیلئے کسی بھی وزیرنے توجہ نہیں دی۔ جن سرکاری عہدیداروں نے گورنر کے مسودہ تقریر کو قطعیت دی ہے ہوسکتا ہے کہ وہ تنگ نظر ہوں لیکن کابینہ وزراء کو چاہئے تھا کہ وہ اقلیتوں کے ڈیکلریشن کو بھی گورنر کی تقریر میں شامل کریں۔
اب اس بات کا احساس ہوگیا ہے کہ اقتدار میں مسلم نمائندگی کی کتنی اہمیت ہوتی ہے۔ اگر کابینہ میں کوئی مسلم وزیر شامل ہوتا تو وہ ضرور اس کوتاہی کو دور کرتا اور چیف منسٹر کو توجہ دلاتا۔