حیدرآباد

حیدرآباد میں مس ورلڈ فائنل مقابلہ۔حسینائیں، خوابوں، امیدوں اورعزایم کی مجسم تعبیر بن کرسامنے آئیں گی

عالمی مقابلہ حسن کا اختتامی پروگرام، جس کا انتظار نہ صرف حسیناوں کو ہے بلکہ دنیا بھر کے ناظرین بھی اس لمحے کے چشم براہ ہیں، ایک نئے فکری تناظر کو جنم دے گا۔یہ مقابلہ اس تصور کو بدلنے کی ایک کوشش ہے کہ عورت کا تعارف صرف اس کے ظاہری حسن تک محدود ہے۔

حیدرآباد: ہفتہ کی شام، جب شہر حیدرآباد میں اسٹیج پر جلوہ گر ہونے والی حسینائیں دنیا بھر کے خوابوں، امیدوں اور عزائم کی مجسم تعبیر بن کر سامنے آئیں گی۔

متعلقہ خبریں
شانگریلا گروپ کی جانب سے معذورین کے لیے خصوصی دعوتِ افطار، ماہرین کا تعلیم و تعاون پر زور
الانصار فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام نمازِ تہجد میں تکمیلِ قرآن، جامع مسجد محبوبیہ میں روحانی اجتماع
امریکہ میں شبِ قدر کے موقع پر مسجد دارالعلوم فاؤنڈیشن میں تہنیتی تقریب، مولانا محمد وحید اللہ خان کی 30 سالہ خدمات کا اعتراف
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔

عالمی مقابلہ حسن کا اختتامی پروگرام، جس کا انتظار نہ صرف حسیناوں کو ہے بلکہ دنیا بھر کے ناظرین بھی اس لمحے کے چشم براہ ہیں، ایک نئے فکری تناظر کو جنم دے گا۔یہ مقابلہ اس تصور کو بدلنے کی ایک کوشش ہے کہ عورت کا تعارف صرف اس کے ظاہری حسن تک محدود ہے۔

جو خواتین اسٹیج پر آئیں گی، وہ محض مسکراہٹیں بکھیرنے یا ریمپ پر واک کرنے نہیں بلکہ دنیا کو بتانے آئیں گی کہ ان کے پاس سوچ ہے، وژن ہے، اور سماج کی تعمیر میں شراکت داری کا عزم ہے۔

حیدرآباد کی سرزمین، جو صدیوں سے علم و دانش کی پرورش گاہ رہی ہے، اس ہفتہ کو علم، حسن اور ثقافت کے ایک بین الاقوامی میلے کی شکل اختیار کر لے گی۔

یہ تقریب نہ صرف ایک فیشن شو ہوگی، بلکہ ایک ایسا بیانیہ تخلیق کرے گی جو عالمی سطح پر عورت کے فکری و سماجی کردار کی نئی تشریح کرے گا۔

شہر کے مقامی فنکار، میوزک کمپوزرز، اور تہذیبی نمائندے اس تقریب کا حصہ بن کر حیدرآباد کے جمالیاتی ورثہ کو عالمی ثقافت کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ایک کامیاب کوشش کریں گے۔