حیدرآباد

حیدرآباد میں مس ورلڈ فائنل مقابلہ۔حسینائیں، خوابوں، امیدوں اورعزایم کی مجسم تعبیر بن کرسامنے آئیں گی

عالمی مقابلہ حسن کا اختتامی پروگرام، جس کا انتظار نہ صرف حسیناوں کو ہے بلکہ دنیا بھر کے ناظرین بھی اس لمحے کے چشم براہ ہیں، ایک نئے فکری تناظر کو جنم دے گا۔یہ مقابلہ اس تصور کو بدلنے کی ایک کوشش ہے کہ عورت کا تعارف صرف اس کے ظاہری حسن تک محدود ہے۔

حیدرآباد: ہفتہ کی شام، جب شہر حیدرآباد میں اسٹیج پر جلوہ گر ہونے والی حسینائیں دنیا بھر کے خوابوں، امیدوں اور عزائم کی مجسم تعبیر بن کر سامنے آئیں گی۔

متعلقہ خبریں
مولانا سیداحمد پاشاہ قادری کا سانحہ ارتحال ملت کے لئے نقصان عظیم; مولانا عرفان اللہ شاہ نوری اور مولانا قاضی اسد ثنائی کا تعزیتی بیان
سنگارینی میں معیار کو اولین ترجیح، مقررہ اہداف ہر حال میں حاصل کیے جائیں: ڈی کرشنا بھاسکر
مدرسہ صفۃ المسلمین ناچارم ولیج کا 14واں عظیم الشان اجلاسِ عام منعقد، فضائلِ قرآن پر خطابات، حفاظ کی دستاربندی
غریبوں کو مکانات نہ ملنے پر آواز تنظیم کا کلکٹر سے رجوع
چنچل گوڑہ میں شبِ برات کے موقع پر مرکزی جلسہ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، 3 فروری کو انعقاد

عالمی مقابلہ حسن کا اختتامی پروگرام، جس کا انتظار نہ صرف حسیناوں کو ہے بلکہ دنیا بھر کے ناظرین بھی اس لمحے کے چشم براہ ہیں، ایک نئے فکری تناظر کو جنم دے گا۔یہ مقابلہ اس تصور کو بدلنے کی ایک کوشش ہے کہ عورت کا تعارف صرف اس کے ظاہری حسن تک محدود ہے۔

جو خواتین اسٹیج پر آئیں گی، وہ محض مسکراہٹیں بکھیرنے یا ریمپ پر واک کرنے نہیں بلکہ دنیا کو بتانے آئیں گی کہ ان کے پاس سوچ ہے، وژن ہے، اور سماج کی تعمیر میں شراکت داری کا عزم ہے۔

حیدرآباد کی سرزمین، جو صدیوں سے علم و دانش کی پرورش گاہ رہی ہے، اس ہفتہ کو علم، حسن اور ثقافت کے ایک بین الاقوامی میلے کی شکل اختیار کر لے گی۔

یہ تقریب نہ صرف ایک فیشن شو ہوگی، بلکہ ایک ایسا بیانیہ تخلیق کرے گی جو عالمی سطح پر عورت کے فکری و سماجی کردار کی نئی تشریح کرے گا۔

شہر کے مقامی فنکار، میوزک کمپوزرز، اور تہذیبی نمائندے اس تقریب کا حصہ بن کر حیدرآباد کے جمالیاتی ورثہ کو عالمی ثقافت کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ایک کامیاب کوشش کریں گے۔