محمد اظہرالدین : کرکٹ تاریخ کا ایک نمایاں اور یادگار کھلاڑی جو کسی تعارف کا محتاج نہیں
محمد اظہر الدین کا شمار کرکٹ کی دنیا کے بہترین بلے باز وں ہوتا ہے ۔ وہ ایک بہترین بلے باز ہونے کے ساتھ ایک چست،برق رفتار فیلڈربھی تھے۔اظہر الدین 1990 کی دہائی میں ہندوستانی ٹیم کی قیادت بھی کرچکےہیں۔وہ ہندوستان کے کامیاب ترین کپتانوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنی کپتانی میں ہندوستان کو تقریباً90 ایک روزہ میچوں میں فتح دلائی۔
نئی دہلی: اپنے ملک کے لیے کرکٹ کھیلنا کسی بھی کرکٹر کا ایک عظیم خواب ہوسکتا ہے اور جب یہ خواب پورا ہوتا ہے تو ملک کو اس کھلاڑی سے امیدیں وابستہ ہوجاتی ہیں۔ انہیں امیدوں کو پورا کرنے کےلئے ایک تجربہ کار کھلاڑی اور کپتان کی ہر ٹیم کو اشد ضرورت ہوتی ہے۔
ایسے ہی مایہ ناز کھلاڑیوں میں ایک کھلاڑی محمد اظہر الدین ہیں ۔ اظہر الدین، ہندستان کو وہ عظیم کھلاڑی جسے شاید کسی تعارف کی ضرورت نہیں ۔بین الاقوامی شہرت یافتہ اس کھلاڑی نے اپنی بلے بازی کے بل بوتے پر ٹیم انڈیا کو کئی میچوں میں شاندار فتوحات کا تحفہ دیا۔
محمد اظہر الدین کا شمار کرکٹ کی دنیا کے بہترین بلے باز وں ہوتا ہے ۔ وہ ایک بہترین بلے باز ہونے کے ساتھ ایک چست،برق رفتار فیلڈربھی تھے۔اظہر الدین 1990 کی دہائی میں ہندوستانی ٹیم کی قیادت بھی کرچکےہیں۔وہ ہندوستان کے کامیاب ترین کپتانوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنی کپتانی میں ہندوستان کو تقریباً90 ایک روزہ میچوں میں فتح دلائی۔
حیدرآباد، ریاست تلنگانہ میں محمد اظہر الدین 8 فروری 1963 کو پیدا ہوئے۔ اظہر کی پرورش بچپن سے ہی حیدرآباد میں ہوئی ۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم آل سینٹس ہائی اسکول حیدرآباد سے حاصل پوری کی۔
یہ اسکول وہ مقام تھا جہاں سے اظہر نے کرکٹ کو اپنا پیشن بنایا۔ اس سکول میں تعلیم کے ساتھ ساتھ اسپورٹس میں بھی نوعمر بچوں کو بہترین تربیت دی جاتی تھی ، خاص کر کرکٹ کی بہترین پریکٹس کرائی جاتی تھی۔اظہر نے نظام کالج، عثمانیہ یونیورسٹی، حیدرآباد، تلنگانہ سے بیچلر آف کامرس میں گریجویشن کیا۔
اظہر الدین کا شمار ہندستانی ٹیم میں ایک اہم کھلاڑی کے طور کیا گیا۔کیونکہ وہ اپنے کھیل کو پورے دل سے کھیلتے تھے۔ وہ ایک بہترین فلڈر رہے۔ میدان میں اظہر الدین کی چستی قابل دید تھی۔ گیند ان کے ہاتھ میں اس طرح آکر چپک جاتی تھی جیسے ان کے ہاتھ میں مقناطیس لگا ہو۔
محمد اظہر الدین کا شمار دنیا کے بہترین فیلڈرز میں ہوتا ہےبین الاقوامی کرکٹ میں اظہر نے ٹیسٹ میچوں میں 105 اور ون ڈے میں 156 کیچ لیے۔اظہر وہ خوش نصیب کھلاڑی ہیں جنہوں نے اپنے کرکٹ کیریئر کا آغاز اپنے پہلے ٹیسٹ سے ہی لگاتار 3 سنچریاں بنا کر کیا۔ اظہر نے ٹیسٹ میچوں کی پہلی اننگز میں 3 سنچریاں بنا کر تاریخ رقم کی اور یہ کارنامہ انجام دے کر بہت جلد بین الاقوامی شہرت حاصل کر لی۔
ایک مشہور کرکٹ مصنف جان ووڈکاک نے اپنے مضمون میں ان کی بہت تعریف کی اور یہ بھی کہا کہ انہوں نے کبھی بھی اس طرح کا شاندار کرکٹ ڈیبیو نہیں دیکھا۔1990 کی دہائی میں اظہر کی بلے بازی کا جادو ہر کرکٹ شائقین میں زیر بحث تھا۔ ان کی شاندار بلے بازی کی وجہ سے لوگ اظہر کو ’’رسٹ وزرڈ‘‘ کے نام سے جانتے تھے۔