تلنگانہ میں دو سالوں میں تقریباً 70,000 سرکاری ملازمتیں پُر کی گئیں: ملوبھٹی وکرامارکا
نائب وزیراعلی تلنگانہ ملوبھٹی وکرمارکا نے رائے دہندوں پر زور دیا کہ وہ بلدی انتخابات میں ووٹ ڈالنے سے پہلے بی آر ایس کے ماضی کے ریکارڈ پر سوال کریں کہ وہ ایسی پارٹی کی تائید کیوں کریں جس نے مبینہ طور پر دس سال تک ریاست کو لوٹا اور اسے بڑے قرضوں میں دھکیل دیا۔
حیدرآباد: نائب وزیراعلی تلنگانہ ملوبھٹی وکرمارکا نے رائے دہندوں پر زور دیا کہ وہ بلدی انتخابات میں ووٹ ڈالنے سے پہلے بی آر ایس کے ماضی کے ریکارڈ پر سوال کریں کہ وہ ایسی پارٹی کی تائید کیوں کریں جس نے مبینہ طور پر دس سال تک ریاست کو لوٹا اور اسے بڑے قرضوں میں دھکیل دیا۔
ضلع کھمم کے وائرا میونسپلٹی میں ایک بڑی ریلی کے بعد جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ بی آر ایس حکومت اپنی دس سالہ حکمرانی کے دوران غریبوں کو ایک گھر یا مکان کی جگہ فراہم کرنے میں بھی ناکام رہی۔
اس کے برعکس، انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے غریبوں کے وقار اور خودداری کو یقینی بنانے کے لئے اندرماں ہاوزنگ اسکیم کو دوبارہ شروع کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہر گھر پر 5 لاکھ روپے خرچ کئے جا رہے ہیں اور پہلے مرحلہ میں 22,500 کروڑ روپئے کی لاگت سے 4.5 لاکھ مکانات تعمیر کئے جا رہے ہیں۔
بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ کانگریس کے برسراقتدارآتے ہی راشن کارڈ منظور کئے گئے اور اب 1.02 کروڑ خاندان مفت باریک چاول حاصل کر رہے ہیں۔
انہوں نے دیگر فلاحی اقدامات پر بھی روشنی ڈالی جن میں راجیو آروگیہ شری اسکیم کے تحت 10 لاکھ روپے تک کا مفت طبی علاج، خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس کو بلا سود قرضہ جات، خواتین کے لئے آر ٹی سی بسوں میں مفت سفر اور غریب گھروں کے لئے 200 یونٹ مفت بجلی شامل ہیں۔
بیروزگاری کے معاملہ پر سابقہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس انتظامیہ نے شفاف طریقہ سے مسابقتی امتحانات منعقد کیے اور دو سالوں میں تقریباً 70,000 سرکاری ملازمتیں پُر کیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت ہر روپیہ کا حساب دے گی اور غریبوں کی فلاح و بہبود اور خودداری کے لئے جو بھی ضروری ہوا خرچ کرے گی۔ انہوں نے ووٹروں سے بلدی انتخابات میں کانگریس کا ساتھ دینے کی اپیل کی۔