کویتا کی نئی سیاسی پارٹی کیلئے بطور مشیر کام کرنے کی خبریں بے بنیاد۔پرشانت کشور کی وضاحت
گزشتہ چند دنوں سے میڈیا اور سوشل میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ کویتا جو سابق وزیراعلی تلنگانہ کی دختر ہیں اور پرشانت کشور کے درمیان دو مرتبہ ملاقاتیں ہوئی ہیں جس میں تلنگانہ میں ایک نئی علاقائی جماعت کے قیام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
حیدرآباد: انتخابی حکمت عملی کے ماہرپرشانت کشور نے ان تمام خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ وہ سابق ایم ایل سی اورتلنگانہ جاگروتی کی صدرکے کویتا کی مجوزہ نئی سیاسی پارٹی کے لئے بطور اسٹریٹیجسٹ کام کریں گے۔
گزشتہ چند دنوں سے میڈیا اور سوشل میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ کویتا جو سابق وزیراعلی تلنگانہ کی دختر ہیں اور پرشانت کشور کے درمیان دو مرتبہ ملاقاتیں ہوئی ہیں جس میں تلنگانہ میں ایک نئی علاقائی جماعت کے قیام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
پرشانت کشور نے ان رپورٹس کو محض افواہیں اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ان خبروں میں کوئی سچائی نہیں ہے۔
پرشانت کشور نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ان کی کویتا سے ایسی کوئی ملاقات نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی سیاسی منصوبے پر بات ہوئی ہے۔ انہوں نے ان خبروں کو بھی مسترد کر دیا جن میں ان سے منسوب کیا گیا تھا کہ تلنگانہ میں ایک اور نئی سیاسی پارٹی کے لئے گنجائش موجود ہے۔
پرشانت کشور نے کہا کہ وہ اپنے مستقبل کے سیاسی سفر یا حکمت عملی سے متعلق جو بھی فیصلہ کریں گے، اس کا اعلان وہ خود کریں گے اور کسی بھی قیاس آرائی پر یقین نہ کیا جائے۔
واضح رہے کہ کے کویتا نے حال ہی میں اپنی ایم ایل سی کی رکنیت سے استعفیٰ دیا تھا اور قانون ساز کونسل میں اعلان کیا تھا کہ وہ ایک نئی سیاسی جماعت تشکیل دیں گی۔ اس اعلان کے بعد سے ہی پی کے کے ساتھ ان کے اشتراک کی خبریں گرم تھیں جن پر اب خود پرشانت کشور نے بریک لگا دی ہے۔
سابق وزیرہریش راو اورپارٹی کے سینئرقائد سنتوش کمار پر الزامات لگانے کے بعد کویتا کو ان کے والد وبی آرایس کے سربراہ کے چندرشیکھرراو نے پارٹی سے معطل کردیاتھا۔کویتا سماجی تنظیم تلنگانہ جاگروتی کی صدر ہیں۔سمجھاجاتا ہے کہ وہ اس تنظیم کو ہی پارٹی میں تبدیل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہیں۔