حیدرآباد

حیدرآباد میں آٹوڈرائیورس کی ہڑتال، عوام اور اسکولی طلبہ پریشان

پرانا شہر حیدرآباد میں آج آٹو ڈرائیوروں نے اپنے مطالبات کی تائید میں ہڑتال کی جس کی وجہ سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس ہڑتال میں نہ صرف مقامی آٹو ڈرائیور بلکہ اولا اور ریپیڈو کے بائیک ٹیکسی ڈرائیورس نے بھی بڑے پیمانہ پر حصہ لیا۔

حیدرآباد: پرانا شہر حیدرآباد میں آج آٹو ڈرائیوروں نے اپنے مطالبات کی تائید میں ہڑتال کی جس کی وجہ سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس ہڑتال میں نہ صرف مقامی آٹو ڈرائیور بلکہ اولا اور ریپیڈو کے بائیک ٹیکسی ڈرائیورس نے بھی بڑے پیمانہ پر حصہ لیا۔

متعلقہ خبریں
انوار العلوم کالج کے فارغین کی ملک و بیرون ممالک منفرد واعلی خدمات – لڑکیاں تعلیم کے میدان میں مزید آگے بڑھیں
نمائش سوسائٹی تعلیم و ثقافت کے فروغ میں سرگرم، عظیم الشان سنجیدہ و مزاحیہ مشاعرہ منعقد
مولانا سیداحمد پاشاہ قادری کا سانحہ ارتحال ملت کے لئے نقصان عظیم; مولانا عرفان اللہ شاہ نوری اور مولانا قاضی اسد ثنائی کا تعزیتی بیان
سنگارینی میں معیار کو اولین ترجیح، مقررہ اہداف ہر حال میں حاصل کیے جائیں: ڈی کرشنا بھاسکر
مدرسہ صفۃ المسلمین ناچارم ولیج کا 14واں عظیم الشان اجلاسِ عام منعقد، فضائلِ قرآن پر خطابات، حفاظ کی دستاربندی


مقامی ڈرائیوروں کا الزام ہے کہ دوسرے اضلاع سے آنے والے آٹوز شہر کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سواریاں بٹھارہے ہیں جس سے مقامی ڈرائیوروں کا روزگار متاثر ہو رہا ہے۔


ڈرائیوروں کا دعویٰ ہے کہ آر ٹی سی بسوں میں خواتین کے لئے شروع مفت سفر اسکیم کے بعد ان کی یومیہ آمدنی میں نمایاں کمی آئی ہے۔


مظاہرین حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اضلاع کے آٹوز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ٹرانسپورٹ شعبہ سے وابستہ افراد کے لئے مالی امداد یا راحت پیکیج کا اعلان کیا جائے۔


آج صبح سے ہی شہر کے مختلف حصوں بالخصوص دھرنا چوک پر بڑی تعداد میں ڈرائیوروں نے جمع ہو کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ سڑکوں سے آٹوز غائب ہونے کی وجہ سے اسکول جانے والے بچوں، دفاتر جانے والے ملازمین اور عام شہریوں کو منزل تک پہنچنے میں سخت دشواری پیش آئی۔ اسٹیشنوں اور بس اسٹینڈز پر مسافر گھنٹوں گاڑیوں کا انتظار کرتے نظر آئے۔


ڈرائیوروں کی یونینوں نے واضح کیا ہے کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات پر ہمدردانہ غور نہ کیا تو وہ اپنے احتجاج میں مزید شدت پیدا کریں گے۔