آر ایس ایس کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں: اندریش کمار

آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کا ایک مسجد جانا اور ائمہ کی تنظیم کے سربراہ سے ملاقات کرنا آر ایس ایس کے موقف سے انحراف نہیں ہے۔

نئی دہلی: آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کا ایک مسجد جانا اور ائمہ کی تنظیم کے سربراہ سے ملاقات کرنا آر ایس ایس کے موقف سے انحراف نہیں ہے۔

اس کے ایک سینئر قائد اندریش کمار نے جمعہ کے دن یہ بات کہی۔ انہوں نے کانگریس کے اس دعویٰ پر تنقید کی کہ آل انڈیا امام کونسل کے سربراہ عمیر احمد الیاسی سے آر ایس ایس سربراہ بھاگوت کی ملاقات‘ بھارت جوڑو یاترا کا نتیجہ ہے۔

راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کی قومی عاملہ کے رکن اندریش کمار نے کہا کہ کانگریس نے آر ایس ایس کی لائن کو غلط سمجھا ہے اور اس کے لئے اسے پچھتاوا ہوگا۔ موہن بھاگوت‘ مسلمانوں کی دلجوئی کے لئے نئی دہلی میں کل ایک مسجد اور مدرسہ گئے تھے جہاں انہوں نے عمیر احمد الیاسی سے بات چیت کی تھی جنہوں نے انہیں ”راشٹرپتا“ قراردیا۔

کانگریس نے کہا تھا کہ آر ایس ایس سربراہ نے عمیر احمد الیاسی سے جو ملاقات کی وہ اس کی بھارت جوڑو یاترا کا نتیجہ ہے۔ اس نے بھاگوت سے کہا تھا کہ وہ ترنگا ہاتھ میں لے کر ملک کو متحد کرنے راہول گاندھی کے ساتھ پدیاترا کریں۔

اندریش کمار نے ایک میڈیا نمائندہ کے سوال کے جواب میں کہا کہ سنگھ کی لائن نہیں بدلی ہے‘ وہ جیسی تھی ویسی ہی رہے گی۔ غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ موہن بھاگوت کا عمیر احمد الیاسی سے ملنا اقلیتی برادریوں کے ساتھ ڈائیلاگ کی آر ایس ایس کی اس پہل کا حصہ تھا جو 20 سال قبل اُس وقت کے سرسنگھ چالک کے ایس سدرشن کے دور میں شروع ہوئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی اب اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش کررہا ہے تو میں کہنا چاہوں گا کہ کانگریس کو اس کے لئے پچھتانا پڑے گا۔

آر ایس ایس سربراہ‘ وسطی دہلی کے کستوربا مارگ پر واقع ایک مسجد گئے تھے۔ بعدازاں وہ شمالی دہلی کے آزاد پور میں واقع مدرسہ تجوید القرآن گئے تھے۔ یہ کسی دینی مدرسہ کا ان کا یہ پہلا دورہ تھا۔ مدرسہ میں موہن بھاگوت نے طلبا سے بات چیت کی تھی اور تلاوت ِ قرآن سنی تھی۔