دہلی

منی پور پر مودی کی خاموشی توڑنے کیلئے لائی گئی ہے تحریک عدم اعتماد: اپوزیشن

تحریک پر بحث کے دوران اپوزیشن کے اراکین نے منی پور کے وزیر اعلیٰ این بیرن سنگھ پر حالات کو قابو کرنے میں ناکام ہونے کا الزام لگاتے ہوئے انہیں فوری طور پر برخاست کرنے کا مطالبہ کیا۔

نئی دہلی: کانگریس نے منگل کے روز کہا کہ منی پور میں تشدد کے معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی توڑنے کے لیے اپوزیشن کو لوک سبھا میں حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کا قدم اٹھانا پڑا کیونکہ وزیر اعظم کا بیان حکومت کے کسی وزیر کے بیان سے زيادہ معنی خیز ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں
کھرگے پر نازیبا تبصرہ، کارروائی کی جائے گی:کانگریس
مودی کے خلاف ایف آئی آر درج نہ کرنے پر کارروائی رپورٹ طلب
ملک کی جمہوری نوعیت کو بڑھانے کے لئے سخت محنت کرنے کی ضرورت : نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات
دونوں جماعتوں نے حیدرآباد کو لیز پر مجلس کے حوالے کردیا۔ وزیر اعظم کا الزام (ویڈیو)
مرشدآباد میں رام نومی پر جھڑپیں، الیکشن کمیشن ذمہ دار: ممتا

تحریک پر بحث کے دوران اپوزیشن کے اراکین نے منی پور کے وزیر اعلیٰ این بیرن سنگھ پر حالات کو قابو کرنے میں ناکام ہونے کا الزام لگاتے ہوئے انہیں فوری طور پر برخاست کرنے کا مطالبہ کیا۔

عدم اعتماد کی تحریک پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے ایوان میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر گورو گوگوئی نے کہا، ‘یہ تحریک منی پور کے معاملے پر وزیر اعظم کی خاموشی کو توڑنے کے لیے لائی گئی ہے۔

 اگر وزیر اعظم ایوان کے سامنے ریاست کے حالات پر بیان دیتے تو یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی کو مان لینا چاہئے کہ منی پور میں ان کی ڈبل انجن والی حکومت ناکام ہوگئی ہے۔

وزیر اعظم کے سامنے تین سوالات رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے اب تک منی پور کا دورہ کیوں نہیں کیا، انہوں نے منی پور کے فرقہ وارانہ تشدد پر صرف 30 سیکنڈ کا بیان دیا، اس میں بھی 80 دن کیوں لگے۔ انہوں نے اب تک منی پور میں وزیر اعلیٰ این بیرن سنگھ کی حکومت کو برطرف کیوں نہیں کیا؟

گوگوئی نے کہا کہ منی پور کو فرقہ وارانہ صفوں میں تقسیم کردیا گیا ہے، یہ صرف شمال مشرق کی ریاست کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ پورے ہندوستان کا مسئلہ ہے۔

 منی پور کے مسئلے کو انصاف کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے، انہوں نے امریکی شہری حقوق کی تحریک کے سرخیل آنجہانی مارٹن لوتھر کنگ کے مشہور قول کا حوالہ دیا، "اگر ایک جگہ انصاف نہیں ہے تو کہیں بھی انصاف نہیں ہے۔” وزیر اعظم مودی جمعرات کے روز تحریک عدم اعتماد پر جواب دیں گے۔