حیدرآباد

نمس میں نرسنگ اسٹاف کے احتجاج کا ایک ہفتہ مکمل

پیر کے روز، اپنی معمول کی ڈیوٹی شروع کرنے سے پہلے نرسنگ اسٹاف نے پلے کارڈس اٹھا کر ایک گھنٹے کے لئے پرامن احتجاج کیا۔ نرسوں نے نمس کیمپس میں ریلی نکالی اور اسپتال انتظامیہ سے مطالبات پورے کرنے کی اپیل کی۔

حیدرآباد: حیدرآباد کے نظامس انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسس (نمس) میں نرسنگ اسٹاف کے احتجاج کو ایک ہفتہ مکمل ہو گیا ہے تاہم اسپتال انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کامیاب نہیں ہوئی۔

متعلقہ خبریں
محبت کی سرزمین ہندوستان، ونستھلی پورم میں مسجد قادریہ کے زیر اہتمام شاندار جشنِ یومِ جمہوریہ
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا
شرفیہ قرأت اکیڈمی کے بارھویں دو روزہ حسن قرأت قرآن کریم مسابقے کا کامیاب اختتام

پیر کے روز، اپنی معمول کی ڈیوٹی شروع کرنے سے پہلے نرسنگ اسٹاف نے پلے کارڈس اٹھا کر ایک گھنٹے کے لئے پرامن احتجاج کیا۔ نرسوں نے نمس کیمپس میں ریلی نکالی اور اسپتال انتظامیہ سے مطالبات پورے کرنے کی اپیل کی۔


ریلی کو روکنے کے لئے اسپتال انتظامیہ کو نمس کیمپس کے کچھ حصے بند کرنا پڑے اور گیٹس کو تالے لگا دیئے گئے۔ اس اقدام سے نرسیں برہم ہوگئیں لیکن انہوں نے احتجاج جاری رکھنے کا عزم برقرار رکھا۔


چند روز قبل نمس کے سینئر ڈاکٹرس نے احتجاج کرنے والی نرسوں سے مذاکرات کئے تھے۔ اگرچہ مذاکرات مثبت رہے مگر کوئی مفاہمت نہیں ہو سکی اور نرسوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنا پرامن احتجاج جاری رکھیں گی۔


نرسنگ آفیسرس کی بڑی شکایات میں معاہدے والے نرسنگ آفیسرس کے والدین کے لئے نمس میں طبی خدمات کی دوبارہ بحالی، خالی نرسنگ اسٹاف کے عہدوں کو پُرکرنا،بااجرت رخصت کی سہولت، کیڈر ریویو، نمس نرسنگ کالج کے لکچرس کو مناسب رتبہ دینا اور انہیں ایمس کے معیار کے مطابق تنخواہیں دینا وغیرہ۔


نرسوں نے پیر کے روز کہا کہ ہم نے اپنا پرامن احتجاج ایک ہفتہ قبل شروع کیا تھا۔ فی الحال انتظامیہ نے ہمارے جائز مطالبات نہیں مانے ہیں۔ جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوتے ہم احتجاج جاری رکھیں گے۔