امریکہ و کینیڈا

ٹرمپ کے آئرلینڈ دورے میں متحدہ آئرلینڈ کی خواہش کا اظہار، امریکی پالیسی پر سوالات

جب بھی کوئی عالمی رہنما امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کرتا ہے تو صرف ایک بات یقینی ہوتی ہے اور وہ یہ کہ یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ آئرلینڈ کے دو روزہ دورے سے قبل بھی صورتحال کچھ ایسی ہی تھی، تاہم کسی نے یہ پیش گوئی نہیں کی تھی کہ پہلے ہی دن عالمی سطح پر سب سے بڑی خبر ٹرمپ کی متحدہ آئرلینڈ دیکھنے کی خواہش ہوگی۔

آئرلینڈ: جب بھی کوئی عالمی رہنما امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کرتا ہے تو صرف ایک بات یقینی ہوتی ہے اور وہ یہ کہ یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ آئرلینڈ کے دو روزہ دورے سے قبل بھی صورتحال کچھ ایسی ہی تھی، تاہم کسی نے یہ پیش گوئی نہیں کی تھی کہ پہلے ہی دن عالمی سطح پر سب سے بڑی خبر ٹرمپ کی متحدہ آئرلینڈ دیکھنے کی خواہش ہوگی۔


ٹرمپ کے بیان کی گونج آئرلینڈ اور برطانیہ میں سنائی دینے لگی تو یہ واضح نہیں تھا کہ آیا یہ امریکی انتظامیہ کی خارجہ پالیسی میں کسی نئی تبدیلی کا اشارہ ہے یا پھر یہ صدر ٹرمپ کا اچانک دیا گیا بیان تھا۔

ٹرمپ صحافیوں کے سوالات لینے اور ان کے جواب دینے کے لیے معروف ہیں، جس کے باعث ان کے بعض بیانات کے بارے میں یہ سوال اٹھتا رہا ہے کہ آیا وہ باقاعدہ پالیسی کی نمائندگی کرتے ہیں یا محض ان کی ذاتی رائے ہیں۔


ریپبلکن پارٹی کے سابق رکن کانگریس اور ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت میں شمالی آئرلینڈ کے لیے خصوصی ایلچی رہنے والے مِک ملوانی نے لوگوں کو صدر کے بیان سے بہت زیادہ مطلب اخذ کرنے سے خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے امریکی خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی ظاہر نہیں ہوتی اور امریکہ اب بھی گڈ فرائیڈے معاہدے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔


ڈیموکریٹک رکن کانگریس برینڈن بوئل نے بھی اس موقف سے اتفاق کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کو دونوں جماعتوں کی حمایت حاصل ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آنے والی۔


دونوں رہنماؤں نے اگرچہ اس بات سے اتفاق کیا کہ ڈونالڈ ٹرمپ کا یہ کہنا غالباً درست ہے کہ ’’بالآخر‘‘ آئرلینڈ کا اتحاد ہو سکتا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ امریکہ اب اس اتحاد کے لیے باقاعدہ مہم چلانے والا ہے۔


ٹرمپ نے ایک کھلی پریس کانفرنس میں سوال کے جواب میں یہ بات کہنے کے کچھ ہی دیر بعد امریکی سفیر کی رہائش گاہ پر مدعو مہمانوں سے خطاب کرتے ہوئے بھی متحدہ آئرلینڈ کے حوالے سے اپنے خیالات دہرائے۔ دراصل یہ ان کی تقریر کے تقریباً ابتدائی جملوں میں شامل تھا، جس سے یہ تاثر ملا کہ شاید انہیں احساس ہو گیا تھا کہ پہلے بیان کے بعد ایک حساس معاملہ کھڑا ہو گیا ہے۔


ٹرمپ کی باقی تقریر بھی خاصی دلچسپ رہی۔ یہ تقریر آئرش اور آئرش نژاد امریکی کاروباری رہنماؤں سے 20 منٹ کے خطاب کے طور پر پیش کی گئی تھی، لیکن یہ تقریباً اس سے دگنی طویل رہی اور اس کا بڑا حصہ امریکہ کے داخلی معاملات سے متعلق موضوعات پر مشتمل تھا۔