حیدرآباد

’پیپر لیک معاملہ، کے ٹی آر کی وزارت کے ملازمین کا اہم رول‘

صدر ٹی پی سی سی اے ریونت ریڈی نے کہا کہ ٹی ایس پی ایس سی پرچہ سوالات افشا اسکام کی وجہ سے لاکھوں طلباء کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔

حیدرآباد: صدر ٹی پی سی سی اے ریونت ریڈی نے کہا کہ ٹی ایس پی ایس سی پرچہ سوالات افشا اسکام کی وجہ سے لاکھوں طلباء کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔

متعلقہ خبریں
فارمولا ای ریس سے حیدرآباد کے برانڈ امیج میں اضافہ: ناگیندر
ویڈیو: تلنگانہ بھون میں کانگریس اور بی آر ایس کارکنوں میں تصام
پیپر لیک معاملہ، مزید3گرفتار
بی آر ایس کی رکن قانون ساز کونسل کویتا کی کانگریس حکومت اور چیف منسٹر ریونت ریڈی پر شدید تنقید
مہاراشٹرا اسمبلی الیکشن میں حصہ نہ لینے بی آر ایس کا فیصلہ

آج پیپر لیک اسکام کے معاملہ میں کانگریس قائدین کے ایک وفد نے راج بھون پہنچ کر گورنر ڈاکٹر تمیلی سائی سوندرا راجن سے ملاقات کی اور انہیں مناسب تحقیقات کے لئے ضروری کاروائی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک تحریری یاد داشت حوالہ کی۔

بعدازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ پرچہ سوالات کے افشاء میں کے ٹی آر کی وزارت کے ملازمین کا اہم رول ہے۔ کے ٹی آر سے تفتیش کیلئے گورنر سے درخواست کی گئی ہے۔ ریونت ریڈی نے کہاکہ مدھیہ پردیش میں ویایم اسکام پر سپریم کورٹ کے احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے درخواست کی گئی ہے۔

صدر کانگریس نے کہاکہ موجودہ صدر ٹی ایس پی ایس سی اور اراکین کو معطل کرنے کا گورنر کو مکمل اختیار ہے۔ ہم امید کررہے ہیں کہ گورنر تمام کو معطل کرتے ہوئے جامع تحقیقات کیلئے راہ ہموار کریں گی۔

انہوں نے حکومت پر اب تک تحقیقات کا حکم نہ دینے پر حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کی تکمیل تک گورنر کو چاہئے کہ ٹی آر ایس پی ایس سی کو معطل رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سارے معاملہ میں بی آر ایس کے بڑے بڑے قائدین ملوث ہیں۔

افشاء کردہ پرچہ کو کروڑ ہا روپے میں فروخت کرنے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹی راما راؤ، جناردھن ریڈی اور انیتا رام چندرن کی تفتیش کیلئے کانگریس کو موقع فراہم کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری درخواست پر قانونی رائے حاصل کرتے ہوئے فیصلہ کرنے کا گورنر کی جانب سے تیقن دیا گیا۔