حیدرآباد

وقف ترمیمی بل 2025 کے خلاف دارالشفا گراؤنڈ میں پرامن احتجاج

مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اُٹھا رکھے تھے جن پر بل کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے اس مجوزہ قانون کو اقلیتوں کے مذہبی و آئینی حقوق میں مداخلت قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

حیدرآباد: مرکزی حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ وقف ترمیمی بل 2025 کے خلاف آج پرانے شہر حیدرآباد کے دارالشُفا گراؤنڈز میں جمعہ کی نماز کے بعد ایک بڑا اور پرامن احتجاجی مظاہرہ منعقد ہوا۔ یہ احتجاج مشترکہ ایکشن کمیٹی (JAC) کے بینر تلے کیا گیا جس میں مختلف مسالک، دینی طبقات اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

متعلقہ خبریں
چنچل گوڑہ میں شبِ برات کے موقع پر مرکزی جلسہ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، 3 فروری کو انعقاد
اقراء مشن ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج، کے ۴۰ سالہ ‘روبی جوبلی’ جشن کا شاندار انعقاد
اولیاء اللہ کے آستانے امن و سلامتی، یکجہتی اور بھائی چارہ کے مراکز،ہنری مارٹن انسٹیٹیوٹ کے غیر ملکی طلباء کا دورہ درگاہ حضرت برہنہ شاہؒ
جماعت اسلامی ہند کا "احترام انسانیت” مہم کا اختتامی جلسہ حیدرآباد میں
زیارتِ قبور سنتِ نبویؐ، شبِ برات میں خاص روحانی اہمیت کی حامل: صابر پاشاہ

مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اُٹھا رکھے تھے جن پر بل کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے اس مجوزہ قانون کو اقلیتوں کے مذہبی و آئینی حقوق میں مداخلت قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

احتجاج میں علماء، ائمہ، مؤذنین، وقف بورڈز کے ذمے داران، اور عوام کی بڑی تعداد شریک تھی۔ مقررین نے زور دے کر کہا کہ وقف جائیدادیں ملت کا قیمتی اثاثہ ہیں اور ان کا تحفظ ہر مسلمان کا فریضہ ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اس بل کو اقلیتوں سے مشاورت کے بغیر نافذ نہ کرے۔

مقررین نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ تحریک پرامن رہے گی اور اگر حکومت نے مطالبات پر غور نہ کیا تو مزید بڑے پیمانے پر احتجاجی اقدامات کیے جائیں گے۔ احتجاج اختتام پر دعا کے ساتھ ختم ہوا، جس میں ملک میں امن، انصاف اور اقلیتوں کے حقوق کی بحالی کی دعا کی گئی۔