حیدرآباد

وقف ترمیمی بل 2025 کے خلاف دارالشفا گراؤنڈ میں پرامن احتجاج

مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اُٹھا رکھے تھے جن پر بل کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے اس مجوزہ قانون کو اقلیتوں کے مذہبی و آئینی حقوق میں مداخلت قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

حیدرآباد: مرکزی حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ وقف ترمیمی بل 2025 کے خلاف آج پرانے شہر حیدرآباد کے دارالشُفا گراؤنڈز میں جمعہ کی نماز کے بعد ایک بڑا اور پرامن احتجاجی مظاہرہ منعقد ہوا۔ یہ احتجاج مشترکہ ایکشن کمیٹی (JAC) کے بینر تلے کیا گیا جس میں مختلف مسالک، دینی طبقات اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

متعلقہ خبریں
شانگریلا گروپ کی جانب سے معذورین کے لیے خصوصی دعوتِ افطار، ماہرین کا تعلیم و تعاون پر زور
الانصار فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام نمازِ تہجد میں تکمیلِ قرآن، جامع مسجد محبوبیہ میں روحانی اجتماع
امریکہ میں شبِ قدر کے موقع پر مسجد دارالعلوم فاؤنڈیشن میں تہنیتی تقریب، مولانا محمد وحید اللہ خان کی 30 سالہ خدمات کا اعتراف
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔

مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اُٹھا رکھے تھے جن پر بل کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے اس مجوزہ قانون کو اقلیتوں کے مذہبی و آئینی حقوق میں مداخلت قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

احتجاج میں علماء، ائمہ، مؤذنین، وقف بورڈز کے ذمے داران، اور عوام کی بڑی تعداد شریک تھی۔ مقررین نے زور دے کر کہا کہ وقف جائیدادیں ملت کا قیمتی اثاثہ ہیں اور ان کا تحفظ ہر مسلمان کا فریضہ ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اس بل کو اقلیتوں سے مشاورت کے بغیر نافذ نہ کرے۔

مقررین نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ تحریک پرامن رہے گی اور اگر حکومت نے مطالبات پر غور نہ کیا تو مزید بڑے پیمانے پر احتجاجی اقدامات کیے جائیں گے۔ احتجاج اختتام پر دعا کے ساتھ ختم ہوا، جس میں ملک میں امن، انصاف اور اقلیتوں کے حقوق کی بحالی کی دعا کی گئی۔