حیدرآباد

پیپسی کمپنی کا حیدرآبادمیں کاروباری سرگرمیوں کی توسیع کامنصوبہ

توقع ہے کہ آئندہ ڈیرھ سال میں ملازمین کی تعداد 4ہزار تک ہوجائے گی۔پیپسی کمپنی جی بی ایس کی جانب سے کریٹیکل پروڈکٹس اور کمپنی آپریشنس کیلئے سولوشن سربراہ کر رہی ہے۔توقع ہے کہ اپنے اس منصوبہ کو روبہ عمل لائے گی۔

حیدرآباد: امریکہ کی ملٹی نیشنل فوڈ کمپنی پیپسی سی او حیدرآبادمیں اپنے کاروبار کو وسعت دینے کا منصوبہ بنارہی ہے۔کمپنی کے گلوبل بزنس سرویس سنٹر (جی بی ایس) جس کا 2019میں 250ملازمین کے ساتھ آغاز ہوا تھا اب ملازمین کی تعداد2800 سے زائد ہوگئی ہے لیکن اس کے باوجود کمپنی اپنی کاروباری سرگرمیوں میں توسیع کا منصوبہ بنارہی ہے۔

متعلقہ خبریں
مولانا سیداحمد پاشاہ قادری کا سانحہ ارتحال ملت کے لئے نقصان عظیم; مولانا عرفان اللہ شاہ نوری اور مولانا قاضی اسد ثنائی کا تعزیتی بیان
سنگارینی میں معیار کو اولین ترجیح، مقررہ اہداف ہر حال میں حاصل کیے جائیں: ڈی کرشنا بھاسکر
مدرسہ صفۃ المسلمین ناچارم ولیج کا 14واں عظیم الشان اجلاسِ عام منعقد، فضائلِ قرآن پر خطابات، حفاظ کی دستاربندی
غریبوں کو مکانات نہ ملنے پر آواز تنظیم کا کلکٹر سے رجوع
چنچل گوڑہ میں شبِ برات کے موقع پر مرکزی جلسہ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، 3 فروری کو انعقاد

توقع ہے کہ آئندہ ڈیرھ سال میں ملازمین کی تعداد 4ہزار تک ہوجائے گی۔پیپسی کمپنی جی بی ایس کی جانب سے کریٹیکل پروڈکٹس اور کمپنی آپریشنس کیلئے سولوشن سربراہ کر رہی ہے۔توقع ہے کہ اپنے اس منصوبہ کو روبہ عمل لائے گی۔  

کمپنی  کی جانب سے ڈیجیٹیلائزنگ ایچ آر اور فینانشیل سرویرسس بھی انجام دے رہی ہے۔کمپنی کے نائب صدر روبٹرو ازیویڈو نے وزیر صنعت و انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راماراؤ سے تلنگانہ پویلین ڈاؤس میں ملاقات کی۔یہ ملاقات ایک ایسے موقع پر ہوئی ہے جبکہ عالمی معاشی فورم کا اجلاس جاری ہے۔

دونوں نے تلنگانہ میں توسیعی منصوبوں پر عمل آوری کے تعلق سے بات چیت کی۔ملاقات کے دوران تلنگانہ میں کاروباری مواقعوں کی صورتحال اور دوسرے متعلقہ امور پر بات چیت کی گئی تاکہ سازگار حالات پر موقع سے استفادہ کیا جاسکے۔

 تلنگانہ کے وزیر راماراؤ نے حیدرآباد میں پیپسی کمپنی کی جی وی ایس نمو اور ترقی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت ممکنہ حد تک کمپنی کے ساتھ اشتراک وتعاون کرے گی تاکہ کوئی رکاوٹیں پیش نہ آئیں۔رابرٹو نے شراکت داری ریسائکلنگ اور پلاسٹکس کے دوبارہ استعمال کے علاوہ دوسرے امور کے تعلق سے بھی بات چیت کی۔