تلنگانہ

فون ٹیپنگ معاملہ۔سپریم کورٹ نے ہریش راؤ اور رادھا کشن راؤ کے خلاف حکومت کی اپیلوں کو خارج کر دیا

فون ٹیپنگ کے معاملہ میں تلنگانہ کی کانگریس حکومت کو سپریم کورٹ سے بڑا دھکہ لگا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے بی آر ایس لیڈر ہریش راؤ اور سابق پولیس عہدیداررادھا کشن راؤ کے خلاف حکومت کی جانب سے دائر کردہ اپیلوں کو خارج کر دیا ہے۔

حیدرآباد: فون ٹیپنگ کے معاملہ میں تلنگانہ کی کانگریس حکومت کو سپریم کورٹ سے بڑا دھکہ لگا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے بی آر ایس لیڈر ہریش راؤ اور سابق پولیس عہدیداررادھا کشن راؤ کے خلاف حکومت کی جانب سے دائر کردہ اپیلوں کو خارج کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں
مہاراشٹرا اسمبلی الیکشن میں حصہ نہ لینے بی آر ایس کا فیصلہ
فون ٹیاپنگ کیس کی تحقیقات میں حیران کن پہلوؤں کا انکشاف
مذہبی مقامات قانون، سپریم کورٹ میں پیر کے دن سماعت
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا
،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،

جسٹس بی وی ناگرتنا کی زیرقیادت بنچ نے سماعت کے دوران واضح کیا کہ اس معاملہ میں ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کردہ احکامات میں مداخلت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔


ریئل اسٹیٹ تاجر چکرادھر گوڑ نے 2024 میں پنجہ گٹہ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی تھی کہ بی آر ایس دور حکومت میں ان کا فون ٹیپ کیا گیا تھا۔ اس شکایت پر درج ایف آئی آر کو ہریش راؤ نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس پر عدالت نے گزشتہ سال 20 مارچ کو ایف آئی آر کو کالعدم کر دیا تھا۔

اگرچہ شکایت کنندہ چکرادھر گوڑ نے اس سے قبل سپریم کورٹ سے اس معاملہ کو رجوع کیا تھا لیکن وہاں بھی ان کی درخواست خارج کر دی گئی تھی۔ اب ریاستی حکومت نے دوبارہ اس معاملہ پر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا تاہم عدالت نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو برقرار رکھتے ہوئے حکومت کی درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے۔