شعراء اپنے کلام کے ذریعے ملتِ اسلامیہ میں شعور بیدار کریں: دانشوران کا خطاب
دانشورانِ قوم نے شعراء کرام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے کلام کو بامقصد بناتے ہوئے ملتِ اسلامیہ میں شعور بیداری کا ذریعہ بنائیں، کیونکہ مؤثر شاعری سوئی ہوئی قوم کو جگانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار سنتوش نگر، حیدرآباد میں منعقدہ ایک عظیم الشان ادبی مشاعرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا گیا۔
حیدرآباد: دانشورانِ قوم نے شعراء کرام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے کلام کو بامقصد بناتے ہوئے ملتِ اسلامیہ میں شعور بیداری کا ذریعہ بنائیں، کیونکہ مؤثر شاعری سوئی ہوئی قوم کو جگانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار سنتوش نگر، حیدرآباد میں منعقدہ ایک عظیم الشان ادبی مشاعرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا گیا۔
یہ ادبی مشاعرہ سروری ٹاور، سنتوش نگر کے ٹیرس گارڈن میں منعقد ہوا، جس کی نگرانی مولانا بشیر احمد نے کی جبکہ داعیٔ محفل انجینئر وقار احمد اسد تھے۔ مقررین نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے بھی بامقصد شاعری کو پسند فرمایا ہے اور اردو شاعری کے دو اہم مقاصد ہیں: فروغِ اردو اور دین کی اشاعت۔
مشاعرہ کی صدارت سینئر شاعر ظفر فاروقی نے کی جبکہ معروف شاعر و صحافی سعداللہ خان سبیل نے نہایت خوش اسلوبی سے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ محفل کا آغاز قاری محمد عبدالمنان کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد ڈاکٹر طیب پاشاہ قادری نے نعتِ اقدس پیش کی۔
اس موقع پر شہر کے ممتاز شعراء ڈاکٹر رؤف خیر، ڈاکٹر فاروق شکیل، سردار سلیم، طاہر گلشن آبادی، ڈاکٹر طیب پاشاہ قادری، سعداللہ خان سبیل اور دیگر شعراء نے اپنا مرصع کلام پیش کیا جسے سامعین کی جانب سے بھرپور داد و تحسین حاصل ہوئی۔
داعیٔ محفل انجینئر وقار احمد اسد نے تمام مہمانوں اور شرکاء کا خیرمقدم کیا۔ مشاعرہ میں بزمِ محبانِ تلنگانہ کے صدر محمد ہاشم علی سمیت ادب سے شغف رکھنے والے سامعین کی بڑی تعداد موجود تھی۔
خوبصورتی سے آراستہ ٹیرس گارڈن میں منعقدہ اس ادبی محفل کو سرد موسم میں شرکاء کے لیے گرم حلیم کے اہتمام نے مزید خوشگوار بنا دیا۔ منتظمین نے باذوق سامعین سے آئندہ بھی مقررہ وقت پر شرکت کر کے محفلوں کو یادگار بنانے کی اپیل کی۔