حیدرآباد

ایم جی ایم ہاسپٹل ورنگل کو5 گھنٹوں تک برقی سربراہی مسدود، تلنگانہ میں بلڈوزر راج: کے ٹی آر

کے ٹی آر نے کہا ایسا لگتا ہے کہ چھوٹا بھائی بڑے بھائی کی ہدایات پر پوری طرح عمل کر رہے ہیں۔ تلنگانہ میں بھی بلڈوزر راج شروع ہو چکا ہے۔ قبل ازیں راما راؤ نے سنگاریڈی ضلع کے جوگی پیٹ میں کسانوں کی حالت زار پر تبصرہ کیا۔

حیدرآباد: بی آر ایس کے کارگزار صدر کے ٹی راما راؤ نے ریاستی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے  کہا کہ حکومت، ورنگل کے ایم جی ایم ہسپتال میں پانچ گھنٹوں تک بجلی سربراہی مسدود کرتے ہوئے مریضوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

متعلقہ خبریں
حیدرآباد دونوں ریاستوں کا مشترکہ دارالحکومت نہیں رہا
’پیپر لیک معاملہ، کے ٹی آر کی وزارت کے ملازمین کا اہم رول‘
صدر ٹی پی سی سی کے عہدہ کیلئے کانگریس قائدین کی دوڑ دھوپ
تلنگانہ میں کانگریس کو 10 نشستیں ملیں گی، چیف منسٹر پرامید
1969 کی تحریک میں طلبہ پر کس نے گولی چلانے کی ہدایت دی؟ کے ٹی آر کا سوال

انہوں نے کہا کہ کانگریس زیرقیادت انتظامیہ بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے جس کی وجہ سے تلنگانہ کے عوام کو بے حد تکالیف کا سامنا کرنا پڑ رہا  ہے۔سوشل میڈیا پلاٹ فارم X پر پوسٹس کرتے ہوئے راما راؤ نے ایم جی ایم ہاسپٹل میں بجلی کی سربراہی کو مسدود کیے جانے  پر مایوسی کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ نوزائیدہ اور بزرگ مریضوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ یہ دل دہلا دینے والی بات ہے کہ ایم جی ایم ہسپتال کو پانچ گھنٹوں تک  بجلی کٹوتی کا سامنا کرنا پڑا، جس سے نومولود سے لے کر بوڑھے مریضوں تک کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں۔

 انہوں نے کہا کانگریس حکومت  ہاسپٹلوں کی بھی مناسب انداز میں نگہداشت کرنے سے قاصر ہے،اب ہم کو اس حکومت سے  عالمی معیار کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے متعلق امید چھوڑ دینی چاہیے۔ کے ٹی آر نے کہا چیف منسٹر اور ان کے وزراء بار بار کہتے رہتے ہیں کہ ریاست میں بجلی کی سربراہی میں کوئی کٹوتی نہیں ہے اب ورنگل واقعہ کی کی ذمہ داری کون لے گا؟

 ایک اور پوسٹ میں، کے ٹی آر نے  بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس حکومت بھی اسی طرح کے طریقہ پر چل پڑی ہے۔ انہوں نے ایک ویڈیو شیئر کیا جس میں ایک کانگریسی قائدین کو مبینہ طور پر اپنے اثر و رسوخ کا غلط استعمال کرتے ہوئے ایک پادری کی رہائش گاہ کے کچھ  حصے کو منہدم کراتے ہوئے دکھایا گیا ہے، مبینہ طور پر اس وجہ سے کہ پادری نے انتخابات میں کانگریس کی حمایت نہیں کی تھی۔

 کے ٹی آر نے کہا ایسا لگتا ہے کہ چھوٹا بھائی بڑے بھائی کی ہدایات پر پوری طرح عمل کر رہے ہیں۔ تلنگانہ میں بھی بلڈوزر راج شروع ہو چکا ہے۔ قبل ازیں راما راؤ نے سنگاریڈی ضلع کے جوگی پیٹ میں کسانوں کی حالت زار پر تبصرہ کیا۔

  جہاں وہ سبسیڈی پر بیج حاصل کرنے کے لیے اپنی شناختی دستاویزات کے ساتھ لائن میں کھڑے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ منگل کے روز، کسانوں نے حصول تخم کے لیے  گھنٹوں لمبی قطاروں میں انتظار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کانگریس کے اقتدار کے چھ ماہ میں ہی  اس طرح کے پریشان کن مناظر کی واپسی تشویشناک ہے۔

 کانگریس کی حکومت کے چھ ماہ کے اندر تلنگانہ میں چھ دہائیوں پرانے آنسوؤں بہانے والے کے مناظر واپس آگئے ہیں۔ جو گزشتہ دس سالوں سے نظر نہیں آ رہے تھے ہم بجلی کی کٹوتی، بجلی کے سب اسٹیشنوں کے محاصرے، جلے ہوئے موٹر پمپس، جنریٹروں اور انورٹرز کا استعمال میں اضافہ، سوکھے آبی ذخائر، اور مرجھائی ہوئی فصلوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ کسان اپنی پیداوار فروخت کرنے کے لیے لمبی قطاروں میں باری کا انتظار کرنے پر مجبور ہیں۔

ایک دہائی کے بعد، ہم کسانوں کی خودکشیوں کی المناک واپسی دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس دور حکومت  میں ہم کو اس طرح کے اور کتنے افسوس ناک واقعات دیکھنا پڑے گا؟۔

a3w
a3w