تلنگانہ

بندروں سے نجات دلانے کے وعدے سرپنچوں کیلئے گلے کی ہڈی بن گئے

صورتحال یہ ہے کہ جب ایک گاؤں سے بندر پکڑ کر قریبی جنگلات یا پہاڑیوں پر چھوڑے جاتے ہیں، تو وہ دوبارہ قریبی بستیوں کا رخ کر لیتے ہیں جس سے دیہاتوں کے درمیان نئے تنازعات جنم لے رہے ہیں۔

حیدرآباد: دیہاتوں میں اب ترقیاتی کاموں سے زیادہ بندروں کی پنچایتیں سرخیوں میں ہیں۔ انتخابات کے دوران بندروں کے عذاب سے نجات دلانے کا وعدہ کرنے والے سرپنچوں کے لئے اب یہی وعدہ گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔

متعلقہ خبریں
گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی
ٹولی چوکی میں جلسہ یومُ الفرقان کا انعقاد
وزیر اعلیٰ تلنگانہ نے تلنگانہ قانون ساز کونسل کے نئے ہال کا افتتاح کیا۔ خواتین کو عالمی دن کی مبارکباد
محبوب نگر میں جامع مسجد میں دعوتِ افطار، مسلم کارپوریٹرس کی تہنیتی تقریب میں رکن اسمبلی اینم سرینواس ریڈی کی شرکت
حضرت امام حسنؓ کا اسوۂ حسنہ آج بھی امت کے لیے مشعلِ راہ،مولانامفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب

بندروں کے حملوں سے پریشان عوام کے دباؤ کے بعد، سرپنچ اب اپنے ذاتی خرچ پر بندر پکڑنے والی ٹیموں کو بلا رہے ہیں۔

صورتحال یہ ہے کہ جب ایک گاؤں سے بندر پکڑ کر قریبی جنگلات یا پہاڑیوں پر چھوڑے جاتے ہیں، تو وہ دوبارہ قریبی بستیوں کا رخ کر لیتے ہیں جس سے دیہاتوں کے درمیان نئے تنازعات جنم لے رہے ہیں۔


تلنگانہ کے ہنمکنڈہ ضلع کے بھیم دیورا پلی منڈل کے مختلف علاقوں سے پکڑے گئے بندروں کو جب مقامی بوڈیڈا گٹہ پر چھوڑا گیا تو ان سب نے بھیم دیورا پلی میجر گرام پنچایت پر دھاوا بول دیا۔


یہاں بندروں کی دہشت اس قدر بڑھ گئی کہ سرپنچ کمار سوامی کو خصوصی ٹیمیں بلانی پڑیں۔ اب تک تقریباً 400 بندر پکڑ کر پنجروں میں بند کئے گئے ہیں جنہیں دور دراز کے گھنے جنگلات میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ بندروں کے ان غول نے دیہاتیوں کی نیند حرام کر دی ہے۔

یہ نہ صرف کھیتوں میں کھڑی فصلوں کو تباہ کر رہے ہیں بلکہ گھروں میں گھس کر کھانے پینے کی اشیاء چھیننے اور انسانوں پر حملے کرنے سے بھی باز نہیں آ رہے ہیں۔ مقامی لوگ اس بات پر سخت برہم ہیں کہ پڑوسی دیہات کے لوگ ان کے علاقہ کے قریب بندر چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ اگرچہ حکام اسے عارضی حل قرار دے رہے ہیں لیکن پریشان حال دیہاتی ایک مستقل حل کے منتظر ہیں۔