حیدرآباد

پرانا پل واقعہ: راجہ سنگھ کا متنازع اور اشتعال انگیز بیان، سیاسی و سماجی حلقوں میں شدید تشویش

حیدرآباد کے پرانے شہر کے علاقہ پرانا پل میں مندر کو نقصان پہنچائے جانے کے واقعہ کے ایک دن بعد گوشہ محل کے ایم ایل اے ٹی راجہ سنگھ کے بیان نے ایک بار پھر سیاسی اور سماجی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔

حیدرآباد کے پرانے شہر کے علاقہ پرانا پل میں مندر کو نقصان پہنچائے جانے کے واقعہ کے ایک دن بعد گوشہ محل کے ایم ایل اے ٹی راجہ سنگھ کے بیان نے ایک بار پھر سیاسی اور سماجی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ ان کے سخت اور اشتعال انگیز ریمارکس پر شہر میں امن و امان کے حوالے سے سنجیدہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

راجہ سنگھ کا متنازع بیان

پرانا پل کے دورے کے بعد جاری کردہ ایک ویڈیو پیغام میں ایم ایل اے راجہ سنگھ نے کہا کہ مندر میں توڑ پھوڑ کے ہر واقعہ کا “جواب توڑ پھوڑ سے ہی” دیا جائے گا۔ راجہ سنگھ نے دعویٰ کیا کہ ہندو سماج بیدار ہو چکا ہے اور ایسے واقعات کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

راجہ سنگھ نے الزام عائد کیا کہ بدھ کی رات پرانا پل میں ایک مسلمان نوجوان نے مندر کو نقصان پہنچایا، جس کے ردعمل میں ہندوؤں کی جانب سے درگاہ اور مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر تعمیر شدہ چِلّہ کو نقصان پہنچایا گیا۔ راجہ سنگھ کا کہنا تھا کہ اب ہندوؤں نے بھی “جواب دینا سیکھ لیا ہے”۔

پولیس پر تنقید، بیانات پر اعتراض

ایم ایل اے نے پولیس کے رویے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اکثر ایسے واقعات میں مندر کو نقصان پہنچانے والے شخص کو ذہنی مریض قرار دے کر معاملہ ٹال دیا جاتا ہے۔ راجہ سنگھ کے اس بیان پر بھی مختلف حلقوں میں اعتراض سامنے آ رہا ہے، کیونکہ ناقدین کے مطابق ایسے الفاظ مزید اشتعال کا سبب بن سکتے ہیں۔

سیاسی و سماجی حلقوں میں شدید ردعمل

راجہ سنگھ کے بیان کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ عوامی نمائندوں اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات خاص طور پر ایسے وقت میں خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں جب پرانا شہر پہلے ہی کشیدہ حالات سے گزر رہا ہے۔

شہریوں کا مطالبہ ہے کہ اشتعال انگیز تقاریر اور نفرت انگیز بیانات کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ شہر کے امن و امان کو برقرار رکھا جا سکے اور حیدرآباد کی گنگا جمنی تہذیب محفوظ رہے۔

بدھ کی رات کا واقعہ: پس منظر

قابلِ ذکر ہے کہ بدھ کی رات پرانا پل میں دو گروپوں کے درمیان جھڑپ، پتھراؤ، گاڑیوں کو نقصان، مذہبی جھنڈوں کی بے حرمتی، درگاہ کے قریب قبروں کو نقصان اور پولیس پر حملے کے واقعات پیش آئے تھے۔ ان واقعات کے بعد پورا علاقہ خوف و ہراس کی لپیٹ میں آ گیا تھا اور پرانا شہر ایک بار پھر کشیدگی کی فضا میں ڈوب گیا تھا۔

امن کی اپیل، مگر خدشات برقرار

اگرچہ پولیس کی جانب سے حالات قابو میں ہونے اور افواہوں پر یقین نہ کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے، تاہم عوام کا کہنا ہے کہ ذمہ دار عہدوں پر فائز افراد کے بیانات شہر کے امن کے لیے نہایت اہم ہوتے ہیں۔ شہریوں کا سوال ہے کہ اگر واقعی امن قائم رکھنا مقصود ہے تو اشتعال انگیزی پھیلانے والے بیانات پر کارروائی کیوں نہیں ہوتی۔

عوام کا پیغام

شہر کے مختلف حلقوں سے یہ آواز بلند ہو رہی ہے کہ سیاست کو نفرت کے بجائے خدمت سے پہچانا جانا چاہیے۔ عوام کا کہنا ہے کہ حیدرآباد کی شناخت صدیوں پرانی گنگا جمنی تہذیب ہے، نہ کہ اشتعال، نفرت اور تشدد۔ شہری امن چاہتے ہیں، سیاسی ڈرامہ نہیں۔