شمالی بھارت

عصمت ریزی کے مجرم رام رحیم کو دھکا

پنجاب اور ہریانہ ہائیکورٹ نے ڈیرا سچا سودا سربراہ گرمیت رام رحیم کو بار بار پیرول دینے پر سوال اٹھائے ہیں۔ عصمت ریزی کے اس مجرم کو جنوری میں 50 روزہ پیرول دی گئی تھی۔

چندی گڑھ: پنجاب اور ہریانہ ہائیکورٹ نے ڈیرا سچا سودا سربراہ گرمیت رام رحیم کو بار بار پیرول دینے پر سوال اٹھائے ہیں۔ عصمت ریزی کے اس مجرم کو جنوری میں 50 روزہ پیرول دی گئی تھی۔

متعلقہ خبریں
صوبہ پنجاب میں پاکستان کے رمیش سنگھ اروڑہ پہلے سکھ وزیر
بھارت بند، پنجاب میں بسیں سڑکوں سے غائب
ارشدیپ سنگھ نے زیادہ رن دینے کا ورلڈریکارڈ بنالیا
رام رحیم کے اہانت آمیز ریمارکس حکومت پنجاب کو نوٹس
پنجاب میں پاکستانی ڈرون سے گرائے گئے چینی پستول برآمد

گزشتہ 10 ماہ میں اس کی 7 ویں پیرول تھی اور گزشتہ چارسال میں 9 ویں پیرول تھی۔ ہائیکورٹ نے حکومت ہریانہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ 10مارچ کو رام رحیم کی خودسپردگی کو یقینی بنائے جس دن اس کی پیرول ختم ہونے والی ہے اور حکم دیا کہ ریاستی حکومت آئندہ مرتبہ رام رحیم کو پیرول دینے سے پہلے عدالت سے اجازت دے سکتی ہے۔

اس دھکا کے علاوہ پنجاب و ہریانہ ہائیکورٹ نے ریاستی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ یہ بتائے کہ اس طرح سے اب تک کتنے افراد کو پیرول دی گئی ہے۔ عدالت میں ایس جی پی سی ی جانب سے داخل کی گئی درخواست کی سماعت ہورہی تھی۔ رام رحیم کو تین مواقع پر پیرول دی گئی تھی اور وہ 91 دن کے لیے جیل سے باہر تھا۔

نومبر میں اسے 21 دن کے لیے رہاکیاگیا۔ جولائی میں 30 دن کے لیے اور جنوری میں 40 دن کے لیے تاکہ ڈیرا کے سابق سربراہ شاہ ستنام کی یوم پیدائش تقاریب میں شرکت کرسکے۔

عدالت نے اسے بار بار پیرول دیئے جانے پر سوال اٹھایا اور ریاستی حکومت سے کہاگیا ہے کہ وہ یہ معلومات فراہم کرے کہ دیگر کتنے قیدیوں نے پیرول کے لیے درخواست دی ہے اور اس نے کتنی درخواستوں کو قبول کیا ہے۔

ہائیکورٹ نے حکومت ہریانہ سے عصمت ریزی کے مجرم کو دیئے گئے دیگر فوائد کے بارے میں بھی دریافت کیا اور یہ بتانے کا حکم دیا کہ دیگر کتنے قیدیوں کے ساتھ مماثل سلوک کیا گیاہے۔

واضح رہے کہ ہریانہ کے پنچکولہ میں ایک خصوصی سی بی آئی عدالت نے دو خواتین کی عصمت ریزی کے جرم میں اگست 2017 میں رام رحیم کو ملزم قرار دیا گیاتھا۔