تلنگانہ

قصیدۂ بردہ شریف: عشقِ رسول ﷺ کی لازوال یادگار — مولانا صابر پاشاہ قادری کا خطاب

مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز نامپلی کے خطیب و امام مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے اپنے خطاب میں کہا کہ قصیدۂ بردہ شریف عشقِ نبی ﷺ کی جاوداں یادگار اور امت مسلمہ کے لیے روحانی سرمایہ ہے۔

حیدرآباد: مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز نامپلی کے خطیب و امام مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے اپنے خطاب میں کہا کہ قصیدۂ بردہ شریف عشقِ نبی ﷺ کی جاوداں یادگار اور امت مسلمہ کے لیے روحانی سرمایہ ہے۔

متعلقہ خبریں
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا
شرفیہ قرأت اکیڈمی کے بارھویں دو روزہ حسن قرأت قرآن کریم مسابقے کا کامیاب اختتام
،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،

انہوں نے بتایا کہ یہ مبارک قصیدہ چھٹی صدی ہجری کے عظیم عالم حضرت امام محمد بن سعید شرف الدین البوصیریؒ نے تصنیف فرمایا، جو 162 اشعار پر مشتمل ہے۔ اس کا اصل نام "الکواکب الدریۃ فی مدح خیر البریۃ” ہے، تاہم یہ زیادہ تر "قصیدہ بردہ” اور "القصیدہ المیمیہ” کے نام سے مشہور ہے۔

مولانا صابر پاشاہ نے کہا کہ امام بوصیریؒ کو فالج لاحق ہوا تھا اور بیماری کے عالم میں انہوں نے حضور ﷺ کی مدح میں یہ قصیدہ لکھا۔ روایت کے مطابق امام بوصیریؒ نے خواب میں حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں یہ قصیدہ پڑھا، جس پر سرکار دو عالم ﷺ نے خوش ہو کر اپنی مبارک چادر ان پر ڈال دی اور شفایاب فرما دیا۔ صبح جب امام بوصیریؒ بیدار ہوئے تو واقعی شفاء یاب ہوچکے تھے اور ان کے کندھوں پر حضور ﷺ کی عطا کردہ چادر موجود تھی۔ اسی نسبت سے اس کا نام "قصیدہ بردہ” مشہور ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ قصیدہ صدیوں سے امت مسلمہ میں عقیدت، عشقِ رسول ﷺ اور روحانی برکتوں کا ذریعہ رہا ہے۔ مختلف مواقع پر جب بھی یہ قصیدہ پڑھا جاتا ہے، تو سامعین کے دل نورِ ایمان اور عشقِ مصطفی ﷺ سے منور ہو جاتے ہیں۔

مولانا صابر پاشاہ نے زور دیا کہ آج کی نسل کو بھی اس قصیدے کی معرفت اور اس کے پیغام کو اپنانا چاہئے، تاکہ وہ حضور ﷺ کی سیرت و اخلاق سے روشنی حاصل کرتے ہوئے اپنی زندگی کو صراط مستقیم پر استوار کرسکیں۔