حیدرآباد میں ’جہاد‘ کے خلاف ہوگی ریالی، ہائی کورٹ نے بھی اجازت دیدی
حیدرآباد میں بلدیاتی انتخابات کے قریب آتے ہی شہر کے دیرینہ پُرامن ماحول کو متاثر کرنے کی ممکنہ کوششوں پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔
حیدرآباد میں بلدیاتی انتخابات کے قریب آتے ہی شہر کے دیرینہ پُرامن ماحول کو متاثر کرنے کی ممکنہ کوششوں پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں توجہ اب بھاگیا نگر گنیش اتسو سمیتی (BGUS) کی جانب سے مجوزہ عوامی ریلی پر مرکوز ہو گئی ہے، جو 24 جنوری کو بالاپور گنیش چوک میں ’’دھرم رکشا سبھا‘‘ منعقد کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔
تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے 21 جنوری کو اجازت ملنے کے بعد منتظمین نے اعلان کیا کہ یہ ریلی ’’جاگو بھاگیا نگر – چلو بالاپور‘‘ کے نعرے کے تحت نکالی جائے گی۔ اس پیش رفت کے بعد شہر میں سیاسی اور سماجی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے۔
اس سے قبل BGUS نے ایک عوامی مہم کا اعلان کرتے ہوئے ہندو برادری سے اپیل کی تھی کہ وہ ’’لو جہاد‘‘، ’’اکنامک جہاد‘‘، ’’ڈرگ جہاد‘‘، ’’فوڈ جہاد‘‘ اور ’’لینڈ جہاد‘‘ جیسے نعروں کے خلاف آواز بلند کریں۔ ان اصطلاحات اور دعوؤں کو عوامی مباحث میں کئی بار متنازع اور بے بنیاد قرار دیا جا چکا ہے۔ ریاستی حکومت نے اس ریلی پر اعتراض کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا تھا، تاہم عدالت کی اجازت کے بعد تنظیم نے فیصلے کو ’’حقانیت کی فتح‘‘ قرار دیا۔
عدالتی فیصلے کے بعد جاری بیان میں BGUS نے دعویٰ کیا کہ صرف بالاپور علاقے میں ہی تقریباً 8 ہزار روہنگیا غیر قانونی طور پر مقیم ہیں، جبکہ ان کا کہنا تھا کہ حکومت بنگلہ دیشی شہریوں کی تعداد بتانے میں ناکام رہی۔ تنظیم نے یہ بھی الزام لگایا کہ بڑی تعداد میں روہنگیا اور بنگلہ دیشی تارکینِ وطن حیدرآباد میں آباد ہو چکے ہیں، اور شہر کو ’’بھاگیا نگر‘‘ کہہ کر مخاطب کیا۔ تاہم مورخین بارہا واضح کر چکے ہیں کہ حیدرآباد کے اس نام کی کوئی مستند تاریخی بنیاد موجود نہیں ہے۔
BGUS، جو ہر سال خیریت آباد گنیش اتسو بھی منعقد کرتی ہے، نے مزید الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ہندو نوجوانوں کو نشے کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، خواتین کو دھوکے پر مبنی تعلقات میں پھنسا کر جبری مذہبی تبدیلی کی جا رہی ہے، خوراک میں ملاوٹ ہو رہی ہے اور مندروں کی زمینوں پر قبضے بڑھ رہے ہیں۔ ان الزامات نے بلدیاتی انتخابات سے قبل شہر کے سیاسی اور سماجی ماحول میں مزید گرما گرمی پیدا کر دی ہے۔
مبصرین یاد دلاتے ہیں کہ ماضی میں بھی انتخابات سے قبل حیدرآباد میں فرقہ وارانہ ماحول بنانے کی کوششیں ہو چکی ہیں، جن میں پورانا پل جیسے علاقوں سے جڑے واقعات شامل رہے۔ تاہم اس وقت پولیس کی بروقت کارروائی اور عوامی تحمل کے باعث صورتحال کو بگڑنے سے روک لیا گیا تھا۔
بلدیاتی انتخابات کے پیش نظر سماجی تنظیمیں اور باشعور حلقے حیدرآباد کے عوام سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ مذہب یا برادری سے بالاتر ہو کر شہر کے امن، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارے کو برقرار رکھیں اور تقسیم پیدا کرنے والی بیانیہ سازی سے ہوشیار رہیں۔ آنے والے دنوں میں سیاسی اور مذہبی سرگرمیوں کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔