تلنگانہ

تلنگانہ میں بجلی کی کھپت میں ریکارڈ اضافہ درج

تلنگانہ میں ایک طرف بڑھتی ہوئی گرمی کی شدت اور دوسری طرف ربیع کی فصلوں کی کاشت میں تیزی کی وجہ سے بجلی کی کھپت میں ریکارڈ اضافہ درج کیا گیا ہے۔ زرعی ضروریات کے ساتھ ساتھ گھریلو، تجارتی اور صنعتی شعبوں میں بڑھتے ہوئے استعمال نے بجلی کی طلب کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ میں ایک طرف بڑھتی ہوئی گرمی کی شدت اور دوسری طرف ربیع کی فصلوں کی کاشت میں تیزی کی وجہ سے بجلی کی کھپت میں ریکارڈ اضافہ درج کیا گیا ہے۔ زرعی ضروریات کے ساتھ ساتھ گھریلو، تجارتی اور صنعتی شعبوں میں بڑھتے ہوئے استعمال نے بجلی کی طلب کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔

متعلقہ خبریں
محبوب نگر میں جامع مسجد میں دعوتِ افطار، مسلم کارپوریٹرس کی تہنیتی تقریب میں رکن اسمبلی اینم سرینواس ریڈی کی شرکت
حضرت امام حسنؓ کا اسوۂ حسنہ آج بھی امت کے لیے مشعلِ راہ،مولانامفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب
کوکٹ پلی نَلّا چیروو کی بحالی مکمل، اسی ہفتے عوام کے لیے کھول دیا جائے گا
جلسہ بیاد محمد مظہر الدین مرحوم (مظہر ملت ) و دعوت افطار کا اہتمام
ماہِ رمضان کا ہر لمحہ قیمتی ہے، پہلے عشرے کے بعد بھی غفلت نہ برتی جائے: مولانا جعفر پاشاہ


رواں ماہ کی 3 تاریخ کو ریاست میں بجلی کی مجموعی طلب 18,139 میگاواٹ تک پہنچ گئی جو کہ ایک نیا ریکارڈ ہے۔ اسی طرح ٹی جی ایس پی ڈی سی ایل کے دائرہ اختیار میں جمعہ کو زیادہ سے زیادہ طلب 11,129 میگاواٹ ریکارڈ کی گئی جبکہ گزشتہ سال اسی دن یہ طلب 10,310 میگاواٹ تھی۔


گریٹر حیدرآباد کے ساتھ ساتھ مختلف اضلاع میں بھی بجلی کی کھپت میں بھاری اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ شہرِ حیدرآباد میں 3 مارچ کو بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب 4,421 میگاواٹ تک پہنچ گئی۔ اضلاع میں ربیع کی فصلوں کی وجہ سے زرعی بجلی کا استعمال عروج پر ہے جس کے باعث متحدہ نلگنڈہ ضلع میں 2,459 میگاواٹ، محبوب نگر میں 2,326 میگاواٹ اور میدک ضلع میں 2,181 میگاواٹ کی ریکارڈ طلب درج کی گئی۔


بجلی کی اس بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر ٹی جی ایس پی ڈی سی ایل کے سی ایم ڈی جتیش وی پاٹل نے یقین دہانی کرائی ہے کہ صارفین کو بلا وقفہ بجلی کی فراہمی کے لئے تمام ضروری اقدامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔

انہوں نے فیلڈ آفیسرس کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ 33کے وی اور11کے وی فیڈرس کے ساتھ ساتھ سب اسٹیشنوں میں پاور ٹرانسفارمرس کے لوڈ کی 24گھنٹے نگرانی کریں۔


حکومت کا ہدف ہے کہ گرمی اور زراعت کے اس اہم سیزن کے دوران کسی بھی تکنیکی خرابی کے بغیر بجلی کی سپلائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام اور کسانوں کو کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔