بین الاقوامی

امریکہ میں غیر ملکیوں کیلئے قوانین مزید سخت

امریکہ میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت کرنے کے خواہش مند غیر ملکی طلبہ کے لیے ٹرمپ انتظامیہ نے نئی سخت پابندیوں کی تجویز پیش کی ہے۔ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی یعنی ڈی ایچ ایس نے تجویز دی ہے کہ گریجویشن کے بعد آپشنل پریکٹیکل ٹریننگ یعنی او پی ٹی کے تحت کام کرنے والے ہر غیر ملکی طالب علم کے لیے متعلقہ یونیورسٹی کو 70 ہزار ڈالر، یعنی تقریباً 58 لاکھ روپے سے زائد فیس ادا کرنا ہوگی۔

واشنگٹن: امریکہ میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت کرنے کے خواہش مند غیر ملکی طلبہ کے لیے ٹرمپ انتظامیہ نے نئی سخت پابندیوں کی تجویز پیش کی ہے۔ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی یعنی ڈی ایچ ایس نے تجویز دی ہے کہ گریجویشن کے بعد آپشنل پریکٹیکل ٹریننگ یعنی او پی ٹی کے تحت کام کرنے والے ہر غیر ملکی طالب علم کے لیے متعلقہ یونیورسٹی کو 70 ہزار ڈالر، یعنی تقریباً 58 لاکھ روپے سے زائد فیس ادا کرنا ہوگی۔

تجویز میں او پی ٹی پروگرام کی تجدید یا توسیع کے لیے مزید 30 ہزار ڈالر فیس وصول کرنے کی بات بھی کہی گئی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد غیر ملکی طلبہ کے لیے امریکی تعلیمی اور روزگار کے نظام کو مزید سخت بنانا ہے۔

موجودہ قوانین کے تحت امریکہ میں ڈگری مکمل کرنے والے غیر ملکی طلبہ کو اپنے تعلیمی شعبے سے متعلق ملازمت کرنے کے لیے ایک سال تک او پی ٹی کی سہولت حاصل ہوتی ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور میتھمیٹکس یعنی STEM شعبوں کے طلبہ کو اس مدت میں مزید دو سال کی توسیع مل سکتی ہے۔

ڈی ایچ ایس کے مطابق موجودہ ویزا نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں اور بیرون ملک سے کم اجرت پر آنے والی افرادی قوت کے استعمال کو روکنے کے لیے یہ بھاری فیس تجویز کی گئی ہے۔ تاہم اس تجویز سے امریکہ کی یونیورسٹیوں اور آئی ٹی صنعت پر نمایاں اثر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

تجویز پر عوام کو 60 دن تک اپنی رائے اور تجاویز پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ اس کے بعد ڈی ایچ ایس اسے حتمی ضابطے کی شکل دے کر نافذ کرسکتا ہے۔ تاہم اعلیٰ تعلیمی ادارے یا کاروباری تنظیمیں اس تجویز کو عدالت میں چیلنج کرسکتی ہیں، جس کے نتیجے میں اس کے نفاذ میں تاخیر ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب امریکہ میں ایچ ون بی ویزا قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی تیاری کی جارہی ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان میں ’ایچ ون بی ویزا فراڈ کریک ڈاؤن ایکٹ‘ نامی ایک نیا بل پیش کیا گیا ہے۔

ٹیکساس سے تعلق رکھنے والی ریپبلکن رکن کانگریس بیتھ وان ڈوئن نے یہ بل پیش کیا ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت جان بوجھ کر ایچ ون بی ویزا قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں زیادہ سے زیادہ 10 سال تک امیگریشن پروگراموں میں حصہ لینے سے روکنے کی تجویز دی گئی ہے۔

موجودہ قوانین کے تحت مقامی امریکی کارکنوں کو ہٹا کر ایچ ون بی ملازمین رکھنے جیسی سنگین خلاف ورزیوں پر زیادہ سے زیادہ 35 ہزار ڈالر کا جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔ نئے بل میں اس جرمانے کو تقریباً سات گنا بڑھا کر 2 لاکھ 50 ہزار ڈالر، یعنی تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ ذمہ دار کمپنیوں پر عائد کیے جانے والے کم از کم پابندی کے عرصے کو بھی موجودہ تین سال سے بڑھا کر 10 سال کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔