کھیل

سعودی پرو لیگ کا افریقہ پر راج، سادیومانے اور یاسین بونو بہترین گول کیپر

’النصر‘ کی نمائندگی کرنے والے سادیو مانے کو پورے ٹورنامنٹ میں بہترین کارکردگی پر پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کے اعزاز سے نوازا گیا۔

مراکش: رباط میں کھیلے گئے افریقہ کپ آف نیشنز کے سنسنی خیز فائنل میں سینیگل نے مراکش کو 0-1 سے شکست دے کر براعظم کی بادشاہت برقرار رکھی۔ اس فائنل کی خاص بات سعودی پرو لیگ کے ستاروں کا چھایا رہنا تھا، جنہوں نے اپنی کارکردگی سے ناقدین کے منہ بند کر دیئے۔

متعلقہ خبریں
پاکستان ہندستانی حالات میں جیتنے کا مضبوط دعویدار : وسیم اکرم
سبسیڈی لون کی تمام درخواستوں کی منظوری کا مطالبہ
ریکارڈ پانچویں خطاب سے ایم ایس دھونی ایک قدم دور
خلیل احمد آئی پی ایل میں تیزترین 50 وکٹ لینے والے ہندوستانی بولر
کین ولیمسن آئی پی ایل 2023 سے باہر

’النصر‘ کی نمائندگی کرنے والے سادیو مانے کو پورے ٹورنامنٹ میں بہترین کارکردگی پر پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کے اعزاز سے نوازا گیا۔

جب ایک متنازع پنالٹی فیصلے پر سینیگل کی ٹیم احتجاجاً میدان چھوڑ کر چلی گئی تھی، تو وہ مانے ہی تھے جنہوں نے کھلاڑیوں کو ڈریسنگ روم سے واپس بلا کر میچ مکمل کرنے پر راضی کیا۔ ان کی اس قائدانہ صلاحیت نے سینیگل کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا۔

فائنل میں دو سعودی کلبوں کے گول کیپرز کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا۔

ایڈورڈ مینڈے (الاہلی) سینیگل کے گول کیپر نے میچ کے اہم موڑ پر ابراہم ڈیاز کی ‘پنیکا پنالٹی’ روک کر اپنی ٹیم کو شکست سے بچایا۔

یاسین بونو (الہلال) مراکش کے گول کیپر اگرچہ فائنل نہ جیت سکے، لیکن انہیں پورے ٹورنامنٹ میں شاندار دفاع پر بہترین گول کیپر کا ایوارڈ دیا گیا۔ انہوں نے میچ کے دوران کئی یقینی گول بچائے، جن کی تشبیہ ورلڈ کپ فائنل میں ایمی مارٹنیز کی سیوز سے دی جا رہی ہے۔

میچ کا واحد اور فیصلہ کن گول پاپے گیئی نے اضافی وقت (Extra Time) میں ایک زوردار ‘تھنڈر بولٹ’ کک کے ذریعے اسکور کیا۔

مانے، مینڈے اور بونو کی کارکردگی نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ سعودی پرو لیگ اب محض ریٹائرمنٹ کے لیے کوئی جگہ نہیں رہی، بلکہ یہاں کا مقابلہ اتنا ہی سخت ہے جتنا کہ یورپ کی ٹاپ لیگز کا۔

فائنل میں نکولس جیکسن (بائرن میونخ)، اشرف حکیمی (PSG) اور نصیر مزراوی (مانچسٹر یونائیٹڈ) جیسے اسٹارز بھی شریک تھے، جس نے اس فائنل کو فٹ بال کی عالمی سطح کا درجہ دے دیا۔ الہلال کے کالیڈو کولی بالی یلو کارڈز کی وجہ سے اس میچ کا حصہ نہیں بن سکے تھے۔