حیدرآبادسوشیل میڈیا

حیدرآباد میں اسکارلیٹ فیور کے واقعات میں اضافہ۔ 5 سے 15 سال عمر کے بچے متاثر۔ فوری علاج کا مشورہ

شہر حیدرآباد میں رواں موسم سرما کے دوران 5 سے 15 سال عمر کے بچوں میں اسکار لیٹ فیور(سرخ رنگ کے بخار) کے واقعات میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے۔

حیدرآباد: شہر حیدرآباد میں رواں موسم سرما کے دوران 5 سے 15 سال عمر کے بچوں میں اسکار لیٹ فیور(سرخ رنگ کے بخار) کے واقعات میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے۔

متعلقہ خبریں
شانگریلا گروپ کی جانب سے معذورین کے لیے خصوصی دعوتِ افطار، ماہرین کا تعلیم و تعاون پر زور
الانصار فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام نمازِ تہجد میں تکمیلِ قرآن، جامع مسجد محبوبیہ میں روحانی اجتماع
امریکہ میں شبِ قدر کے موقع پر مسجد دارالعلوم فاؤنڈیشن میں تہنیتی تقریب، مولانا محمد وحید اللہ خان کی 30 سالہ خدمات کا اعتراف
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔

سینئر ماہر امراض اطفال نے پیر کے روز بتایا کہ اسکارلیٹ فیور، اس سیزن میں بچوں کو ایک قسم کے بیکٹریا کا انفیکشن ہوتا ہے۔ یہ انفیکشن اسٹرپٹوکوکس نامی بیکٹریاں کے ذریعہ پھیلتا ہے جس کا مخصوص اینٹی بائیوٹیک دواؤں سے علاج کیاجاسکتا ہے۔

اس بیکٹریل انفیکشن(اسکارلیٹ فیور) کی علامتیں سامنے آنے 2 سے 5 دن کا عرصہ لگتا ہے۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران ہمیں 5 سے 15 سال عمر کے کئی بچوں کے اسکارلیٹ فیور سے متاثر ہونے کا علم ہوا ہے۔ ایسے کئی کیس دواخانوں سے رجوع ہوئے ہیں۔ اس مرض میں بچوں کو تیز بخار آتا ہے۔

ٹانسلس(گلے کے غدود) میں سوجن پیدا ہوجاتی ہے اور ان کا رنگ سرخ ہوجاتا ہے اور اس میں درد ہوتا ہے۔ زبان سرخ اور کھردری، اور سفید دکھائی دیتی ہے۔ ان حالات میں بچوں کو کسی ماہر پیڈیاٹرکس سے رجوع کرنا چاہئے۔ڈیولپمنٹل پیڈیاٹریشن حیدرآباد ڈاکٹر سیوارجنی سنتوش نے یہ بات بتائی۔

گلے میں خراش اور زبان گھردری ہونے کے ساتھ تیز بخار ہوتا ہے اور جسم پر سرخ دھبے پیدا ہوجاتے ہیں۔ اسکارلیٹ فیور انتہائی متعدی ہوتا ہے۔ متاثرہ بچے کے چھینکنے یا کھانسے سے بیکٹریا صحت مند بچے کو متاثر کرسکتے ہیں۔ فوڈ، پانی شیئر کرنے، متاثرہ کے ناک اور منہ اور چھونے سے بھی یہ مرض دوسروں تک پھیل سکتا ہے۔

بخار کم ہونے تک متاثرہ بچوں کو قطعی، اسکول روانہ نہ کریں۔ علاج میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔ ڈاکٹر سنتوش نے کہاکہ علاج میں تاخیر سے بچے کی صحت خراب ہوسکتی ہے اس کا اثر دل اور گردوں پر بھی پڑسکتا ہے۔ ڈاکٹر سیوا رجنی سنتوش نے یہ بات کہی۔