تلنگانہ

تلگو ریاستوں میں سرد ہواؤں کا دوسرا مرحلہ شدت کے ساتھ چلنے کی پیش قیاسی

انہوں نے انتباہ دیا ہے کہ دسمبر جیسی شدید سردی کی لہر دوبارہ شروع ہونے والی ہے اور 5 جنوری سے 12 جنوری تک سرد ہواؤں کا دوسرا مرحلہ شدت کے ساتھ چلے گا۔ آنے والے ایک ہفتہ کے دوران موسم مکمل طور پر بدل جائے گا اور درجہ حرارت دسمبر میں درج کی گئی کم ترین سطح تک گرنے کا امکان ہے۔

حیدرآباد: دونوں تلگوریاستوں تلنگانہ اوراے پی کے عوام جو گزشتہ چند دنوں سے سردی میں تھوڑی راحت محسوس کر رہے تھے، ان کے لئے تلنگانہ کے مشہور ماہر موسمیات بالاجی نے ایک تشویشناک اپ ڈیٹ جاری کیا ہے۔

متعلقہ خبریں
دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج کامیاب زندگی کی ضمانت ہے، وزیرِ اقلیتی بہبود و قانون کا جامعۃ المؤمنات میں خطاب
تلنگانہ میں گرمی کی شدت میں بتدریج اضافہ
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا
،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،
جعلی ایچ ٹی کپاس کے بیجوں کا بڑا بھانڈا، 10 ٹن بیج ضبط، دو ملزمان گرفتار


انہوں نے انتباہ دیا ہے کہ دسمبر جیسی شدید سردی کی لہر دوبارہ شروع ہونے والی ہے اور 5 جنوری سے 12 جنوری تک سرد ہواؤں کا دوسرا مرحلہ شدت کے ساتھ چلے گا۔ آنے والے ایک ہفتہ کے دوران موسم مکمل طور پر بدل جائے گا اور درجہ حرارت دسمبر میں درج کی گئی کم ترین سطح تک گرنے کا امکان ہے۔


بالاجی کے مطابق عام طور پر دوپہر کے وقت جب دھوپ کی تپش ہوتی ہے تب بھی درجہ حرارت محض 25 سے 26 ڈگری تک ہی محدود رہ سکتا ہے۔ صبح کے وقت گھنی کہرچھائی رہے گی جس کی وجہ سے شاہراہوں پر روشنی کم ہو سکتی ہے اور گاڑی چلانے والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

آسمان مکمل طور پر بادلوں سے ڈھکا رہے گا جس کی وجہ سے سورج کی روشنی کم ہوگی اور سارا دن سردی کا احساس برقرار رہے گا۔ اس صورتحال کے پیش نظر عوام کو چوکس رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔


خاص طور پر صبح اور رات کے وقت سفر کرنے والوں کو لازمی طور پر اونی کپڑے پہننے کا مشورہ دیاگیاہے۔ سانس کے مسائل میں مبتلا افراد، چھوٹے بچوں اور ضعیف افرادکے لئے بہتر ہے کہ وہ شدید کہر کے دوران باہر نکلنے سے گریز کریں۔ گاڑی چلانے والوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ کہر کے دوران ہیڈلائٹس کا استعمال کریں اور رفتار دھیمی رکھیں۔ ان احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے ہی سردی کے مضر اثرات سے محفوظ رہنا ممکن ہے۔