شیری لنگم پلی کانگریس سوشل میڈیا کوآرڈینیٹر پر چچا کا جعلی ڈیتھ سرٹیفکیٹ بنا کر زمین ہڑپنے کا الزام
اطلاعات کے مطابق متاثرہ خاتون اپنے شوہر کے نام پر موجود زمین کو اپنے نام منتقل کروانے کے لیے جی ایچ ایم سی دفتر پہنچی تھیں۔ اس دوران انہیں مبینہ طور پر معلوم ہوا کہ ان کے شوہر کے نام سے جعلی ڈیتھ سرٹیفکیٹ تیار کیا گیا اور زمین کو سری ہری گوڑ کے نام منتقل کروا لیا گیا۔
حیدرآباد: شیری لنگم پلی کے کانگریس سوشل میڈیا کوآرڈینیٹر سری ہری گوڑ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر اپنے چچا کے نام سے جعلی ڈیتھ سرٹیفکیٹ تیار کرکے ان کی زمین اپنے نام منتقل کروالی۔
اطلاعات کے مطابق متاثرہ خاتون اپنے شوہر کے نام پر موجود زمین کو اپنے نام منتقل کروانے کے لیے جی ایچ ایم سی دفتر پہنچی تھیں۔ اس دوران انہیں مبینہ طور پر معلوم ہوا کہ ان کے شوہر کے نام سے جعلی ڈیتھ سرٹیفکیٹ تیار کیا گیا اور زمین کو سری ہری گوڑ کے نام منتقل کروا لیا گیا۔
متاثرہ خاتون کی شکایت پر پولیس نے مبینہ طور پر مقدمہ درج کرتے ہوئے معاملے کی تحقیقات شروع کیں۔ انصاف کے مطالبے کے لیے خاتون اور ان کے بیٹے نے سری ہری گوڑ کے مکان کے سامنے احتجاج کیا۔
متاثرین کا الزام ہے کہ احتجاج کے دوران سری ہری گوڑ اور ان کے بھائی ستیش گوڑ نے رشتہ داری کا لحاظ کیے بغیر خاتون اور ان کے بیٹے پر مبینہ طور پر حملہ کیا۔
متاثرین نے مزید الزام عائد کیا کہ حملے کے سلسلے میں شکایت کرنے کے باوجود پولیس نے ملزمین کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کانگریس پارٹی کے انچارج جگدیشور گوڑ کی ہدایت پر پولیس کارروائی سے گریز کر رہی ہے۔
متاثرین کا یہ بھی الزام ہے کہ جب سری ہری گوڑ کو معلوم ہوا کہ وہ پولیس میں شکایت درج کروانے کی کوشش کر رہے ہیں تو انہیں سنگین نتائج بھگتنے اور جان سے مارنے کی مبینہ دھمکیاں دی گئیں۔
تاہم، سری ہری گوڑ اور دیگر افراد کے خلاف عائد کیے گئے الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق ہونا باقی ہے۔ پولیس کی تحقیقات کے بعد ہی مبینہ جعلی دستاویز، زمین کی منتقلی اور حملے سے متعلق حقائق واضح ہوسکیں گے۔