مدھاپور کے OYO ہوٹل میں 23 سالہ خاتون کی مشتبہ موت، بوائے فرینڈ فرار
مدھاپور کے ایک OYO ہوٹل میں 23 سالہ خاتون کی مشتبہ حالات میں موت واقع ہوگئی۔ پولیس کو ہوٹل کے کمرے سے خون کے دھبے اور خاتون کے چہرے و سر پر شدید زخموں کے نشانات ملے ہیں، جس کے بعد معاملے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
حیدرآباد: مدھاپور کے ایک OYO ہوٹل میں 23 سالہ خاتون کی مشتبہ حالات میں موت واقع ہوگئی۔ پولیس کو ہوٹل کے کمرے سے خون کے دھبے اور خاتون کے چہرے و سر پر شدید زخموں کے نشانات ملے ہیں، جس کے بعد معاملے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
متوفی کی شناخت وشاکھاپٹنم سے تعلق رکھنے والی شارون نکیتا ٹوپنو کے طور پر ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق وہ اپنے بوائے فرینڈ سرینواس روی تیجا کے ساتھ حیدرآباد آئی تھی۔ دونوں نے پیر کے روز مدھاپور کے صدیق نگر، روڈ نمبر 5 پر واقع OYO ہوٹل کے کمرہ نمبر 303 میں قیام کیا تھا۔
منگل کے روز سرینواس روی تیجا نے ہوٹل کے عملے کے ساتھ مل کر شارون کو ہنگامی علاج کے لیے کونڈاپور کے ایک خانگی اسپتال منتقل کیا۔ اسپتال کے عملے نے واقعے کی اطلاع مدھاپور پولیس کو دی۔
ڈاکٹروں نے خاتون کا معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ اسپتال پہنچنے سے قبل ہی اس کی موت واقع ہوچکی تھی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس اسپتال پہنچی اور لاش کا معائنہ کیا۔
پولیس کے مطابق خاتون کے چہرے اور سر پر شدید زخموں اور چوٹوں کے نشانات پائے گئے، جس کے بعد اس کی موت کے حالات پر شبہات پیدا ہوئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کی موت کی اطلاع ملنے کے بعد سرینواس روی تیجا مبینہ طور پر اسپتال سے فرار ہوگیا۔ پولیس نے بعد میں ہوٹل کے کمرے کا معائنہ کیا، جہاں دیواروں اور بیڈ شیٹس پر خون کے دھبے پائے گئے۔
پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کرتے ہوئے سرینواس روی تیجا کی تلاش شروع کردی ہے۔ پولیس ہوٹل کے سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت دیگر شواہد کا جائزہ لے رہی ہے۔
خاتون کی موت کی اصل وجہ اور واقعے کے مکمل حالات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوسکیں گے۔