قومی

ڈسٹرکٹ جج کی براہِ راست تقرری کے تنازع پر سپریم کورٹ کا فیصلہ محفوظ

اس کے علاوہ یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ کیا بار اور عدالتی خدمات کا مشترکہ تجربہ ڈسٹرکٹ جج کی براہِ راست تقرری کے لیے قابلِ قبول ہوگا۔ دونوں فریقوں کی دلیلیں سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ڈسٹرکٹ جج کے عہدے پر براہِ راست تقرری سے متعلق ایک تنازع پر سماعت مکمل کرنے کے بعد جمعرات کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔

متعلقہ خبریں
مذہبی مقامات قانون، سپریم کورٹ میں پیر کے دن سماعت
طاہر حسین کی درخواست ضمانت پرسپریم کورٹ کا منقسم فیصلہ
آتشبازی پر سال بھر امتناع ضروری: سپریم کورٹ
گروپI امتحانات، 46مراکز پر امتحان کا آغاز
خریدے جب کوئی گڑیا‘ دوپٹا ساتھ لیتی ہے

چیف جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس ایم ایم سندریش، جسٹس اروند کمار، جسٹس ایس سی شرما اور جسٹس کے ونود چندرن پر مشتمل پانچ رکنی آئینی بنچ نے تین روزہ سماعت کے بعد یہ قدم اٹھایا۔ یہ معاملہ ڈسٹرکٹ ججوں کی تقرری کے لیے اہلیت کے معیار کی وضاحت سے متعلق ہے۔


آئینی بنچ نے آئین کے آرٹیکل 233(2) کی تشریح پر متعدد سوالات پر غور کیا، جن میں یہ پوچھا گیا کہ آیا سات سال کی وکالت مکمل کر چکے عدالتی افسر کو بار کی خالی آسامی پر تقرری کا حق ہوگا یا نہیں اور کیا اہلیت کا تعین تقرری کے وقت دیکھا جائے یا درخواست جمع کرانے کے وقت یا دونوں پر۔

اس کے علاوہ یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ کیا بار اور عدالتی خدمات کا مشترکہ تجربہ ڈسٹرکٹ جج کی براہِ راست تقرری کے لیے قابلِ قبول ہوگا۔ دونوں فریقوں کی دلیلیں سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔