حیدرآباد

دہلی میں ملاقات کا وقت نہ دینے چیف منسٹر تلنگانہ کا تبصرہ جھوٹ پرمبنی: بنڈی سنجے

بنڈی سنجے نے کہا ”وزیراعلی نے انتخابات میں عوام سے کئے گئے وعدے پورے نہ کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ ضعیف افراد کے لئے 4,000 کی پنشن، خواتین کے لئے ماہانہ 2,500 اور شادی کے موقع پر سونا دینے کی باتیں کھوکھلی ثابت ہوئی ہیں۔“انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے نوجوانوں سے کئے گئے وعدے بھی پورے نہیں کئے۔

حیدرآباد: مرکزی مملکتی وزیرداخلہ بنڈی سنجے نے تلنگانہ کے وزیراعلیٰ کے ریونت ریڈی کے اس تبصرہ پر شدید ردعمل ظاہر کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ریاست کی مالی حالت خراب ہے اور دہلی جانے پر انہیں ملاقات کے لئے کوئی وقت نہیں مل رہا ہے۔

متعلقہ خبریں
بنڈی سنجے کے رویہ پر ہائی کورٹ کا اظہارِ ناراضگی
چیف منسٹر ریونت ریڈی نے میڈارم کا دو روزہ دورہ کامیابی کے ساتھ مکمل کیا
سنگارینی میں معیار کو اولین ترجیح، مقررہ اہداف ہر حال میں حاصل کیے جائیں: ڈی کرشنا بھاسکر
پرگتی بھون میں عثمان الھاجری کی چیف منسٹر ریونت ریڈی اور ٹی پی سی سی صدر مہیش کمار گوڑ سے ملاقات
مدرسہ صفۃ المسلمین ناچارم ولیج کا 14واں عظیم الشان اجلاسِ عام منعقد، فضائلِ قرآن پر خطابات، حفاظ کی دستاربندی

بنڈی سنجے نے کہا ”وزیراعلی نے انتخابات میں عوام سے کئے گئے وعدے پورے نہ کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ ضعیف افراد کے لئے 4,000 کی پنشن، خواتین کے لئے ماہانہ 2,500 اور شادی کے موقع پر سونا دینے کی باتیں کھوکھلی ثابت ہوئی ہیں۔“انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے نوجوانوں سے کئے گئے وعدے بھی پورے نہیں کئے۔

راجنا سرسلہ ضلع میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا”تلنگانہ میں کانگریس کا کھیل ختم ہو چکا ہے، یہ دکان بند ہونے کے مترادف ہے۔“ انہوں نے کہاکہ راہل گاندھی جو کہ پہلے وعدہ کر چکے تھے کہ وہ تلنگانہ کے عوام کو آئین کی کتاب کے مطابق تمام وعدے پورے کریں گے، اب وہ کیا جواب دیں گے؟

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی باتوں سے کانگریس کے وزیروں اور ایم ایل ایز میں خوف کا ماحول ہے اور وہ پارٹی چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ کانگریس نے جو وعدے کیے تھے، وہ پورے نہیں کئے، اور اب ان کا اس پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے وزیراعلی کے بیان کو جھوٹ قراردیا کہ دہلی جانے پر ملاقات کے لئے وقت نہیں دیاجارہا ہے۔ یہ بے بنیاد بات ہے۔ میں نے کئی بار وزیراعظم اور دیگر مرکزی وزیروں سے ملاقات کی ہے، لیکن اب وقت نہ ملنے کی بات کرنا شرم کی بات ہے۔