حیدرآباد

تلنگانہ انٹرمیڈیٹ بورڈ کے دفتر کے باہر تلنگانہ جاگروتی اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے کارکنوں کا احتجاج

اس موقع پر موجود پولیس نے احتجاج کرنے والے طلبہ کو روکنے کی کوشش کی جس کے نتیجہ میں پولیس اور طلبہ کے درمیان تلخ کلامی اور دھکم پیل ہوئی۔ صورتحال کشیدہ ہونے پر پولیس نے احتجاجی طلبہ کو حراست میں لے کر قریبی پولیس اسٹیشنوں میں منتقل کر دیا۔

حیدرآباد: شہرحیدرآباد کے علاقہ نامپلی میں واقع تلنگانہ انٹرمیڈیٹ بورڈ کے دفتر کے باہر تلنگانہ جاگروتی اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے کارکنوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے بورڈ کا محاصرہ کر لیا۔

متعلقہ خبریں
بین الاقوامی یومِ مادری زبان کے موقع پر ممتاز لسانی ماہرین کو اعزازات
حج ہاوز میں عازمین حج کے قیام و طعام کے انتظامات کا جائزہ
کھوئے ہوئے وقار کی بحالی کیلئے قرآن فہمی اور سیرتِ نبویؐ کا عملی مطالعہ ناگزیر: ڈاکٹر محمد قطب الدین
اندرا پریہ درشنی گورنمنٹ ڈگری کالج ، نامپلی۔ حیدرآباد میں ”عالمی یوم مادری زبان “ کا انعقاد
حضرت سیدہ کائنات فاطمۃ الزھراءؓ اصل اور نسل ہر دو لحاظ سے پاکیزہ، آپ کی سیرت خواتین امت کے لئے مشعل راہ: مولانا ڈاکٹر سید احمد غوری نقشبندی

ان احتجاجیوں نے الزام لگایا کہ انٹرمیڈیٹ بورڈ بغیر اجازت کے چلنے والے کالجوں کی پشت پناہی کر رہا ہے اور طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھواڑ کر رہا ہے۔


احتجاج کے دوران طلبہ نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ کی غفلت اور خانگی کالجوں کے ساتھ ملی بھگت کی وجہ سے ہزاروں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔

ان کا مطالبہ تھا کہ وہ طلبہ جو پہلے ہی ان غیر تسلیم شدہ کالجوں میں داخلہ لے چکے ہیں ان کے تعلیمی سال کو بچانے کے لئے انہیں فوری طور پر امتحانات میں شرکت کی اجازت دی جائے۔


اس موقع پر موجود پولیس نے احتجاج کرنے والے طلبہ کو روکنے کی کوشش کی جس کے نتیجہ میں پولیس اور طلبہ کے درمیان تلخ کلامی اور دھکم پیل ہوئی۔ صورتحال کشیدہ ہونے پر پولیس نے احتجاجی طلبہ کو حراست میں لے کر قریبی پولیس اسٹیشنوں میں منتقل کر دیا۔

طلبہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ جب تک طلبہ کو انصاف نہیں ملتا اور غیر قانونی کالجوں کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی ان کا احتجاج جاری رہے گا۔