حیدرآباد

تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن گروپ 1 معاملہ، ہائی کورٹ کا واحد بنچ کے احکامات منسوخ کرنے سے انکار

عدالت نے واضح کیا کہ ٹی جی پی ایس سی کو چاہیے کہ وہ واحد بنچ میں ہی پٹیشنز کا حل تلاش کرے۔یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب کئی امیدواروں نے ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے گروپ 1 مین امتحان کے نتائج اور عمل میں بے قاعدگیوں کا الزام لگایا تھا۔

حیدرآباد: تلنگانہ پبلک سروس کمیشن (ٹی جی پی ایس سی)کی جانب سے دائر کردہ اپیل پر بدھ کے روز تلنگانہ ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔ ٹی جی پی ایس سی نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ گروپ 1 مین امتحان سے متعلق واحد بنچ کی طرف سے جاری کردہ عبوری احکامات کو منسوخ کیا جائے تاہم چیف جسٹس کی زیر قیادت ڈویژن بنچ نے اس اپیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ معاملہ فی الحال واحد بنچ میں زیر سماعت ہے، اس لئے وہ اس میں مداخلت نہیں کریں گے۔

متعلقہ خبریں
شانگریلا گروپ کی جانب سے معذورین کے لیے خصوصی دعوتِ افطار، ماہرین کا تعلیم و تعاون پر زور
الانصار فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام نمازِ تہجد میں تکمیلِ قرآن، جامع مسجد محبوبیہ میں روحانی اجتماع
امریکہ میں شبِ قدر کے موقع پر مسجد دارالعلوم فاؤنڈیشن میں تہنیتی تقریب، مولانا محمد وحید اللہ خان کی 30 سالہ خدمات کا اعتراف
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ ٹی جی پی ایس سی کو چاہیے کہ وہ واحد بنچ میں ہی پٹیشنز کا حل تلاش کرے۔یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب کئی امیدواروں نے ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے گروپ 1 مین امتحان کے نتائج اور عمل میں بے قاعدگیوں کا الزام لگایا تھا۔

 ان کا کہنا تھا کہ نہ صرف امتحانی مراکز کی الاٹمنٹ میں اصولوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے، بلکہ ری کاؤنٹنگ کے بعد کے مارکس اور ٹی جی پی ایس سی کی جانب سے جاری کردہ میمو مارکس میں بھی فرق پایا گیا ہے۔

ان درخواستوں پر غور کرتے ہوئے جسٹس راجیشور راؤ نے 17 اپریل کو عبوری احکامات جاری کرتے ہوئے ٹی جی پی ایس سی کو گروپ 1 تقررات کے احکام جاری نہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ البتہ انہوں نے سرٹیفکیٹس کی جانچ مکمل کرنے کی اجازت دی تھی۔

اس کے بعد ٹی جی پی ایس سی نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرتے ہوئے ان عبوری احکامات کو منسوخ کرنے کی گزارش کی، جس پر عدالت نے سماعت مکمل کرتے ہوئے مداخلت سے انکار کر دیا۔