ایشیاء

روہنگیا کیمپ میں فائرنگ، 5 افراد ہلاک

ہلاک ہونے والوں میں کیمپ 8 ویسٹ کا رہائشی انور حسین (24)، محمد حمیم (16)، کیمپ 13 کا رہائشی نورالامین (24) اور کیمپ 10 کا رہائشی محمد ناظم اللہ شامل ہیں۔ پانچویں متوفی کی شناخت نہیں ہو سکی۔

ڈھاکہ: بنگلہ دیش کے کاکس بازار کے اوکھیا میں روہنگیا کیمپ میں اراکان روہنگیا سالویشن آرمی (اے آر ایس اے) اور اراکان سالیڈیرٹی آرگنائزیشن (آر ایس او) کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔

متعلقہ خبریں
میانمار میں جھڑپیں : ہزاروں روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش کی سرحد پر پہنچ گئے
اے پی وزیر کے قافلہ کی گاڑی سے ٹکر ایک شخص ہلاک
میانمار میں آگ لگنے سے 60 کے قریب دکانیں جل گئیں
روہنگیاؤں کے خلاف کارروائی قابل ستائش:چیف منسٹر آسام
غزہ پر اسرائیلی بربریت میں اقوام متحدہ کے 9 ملازمین ہلاک

ہلاک ہونے والے تمام افراد ارسا کے رکن بتائے جاتے ہیں۔ یہ واقعہ جمعہ کی صبح اوکھیا کے کیمپ 8 ویسٹ میں پیش آیا۔ ہلاک ہونے والوں میں کیمپ 8 ویسٹ کا رہائشی انور حسین (24)، محمد حمیم (16)، کیمپ 13 کا رہائشی نورالامین (24) اور کیمپ 10 کا رہائشی محمد ناظم اللہ شامل ہیں۔ پانچویں متوفی کی شناخت نہیں ہو سکی۔

اس کی تصدیق کرتے ہوئے 8-اے پی بی این کیپٹن (ایڈیشنل ڈی آئی جی) عامر ظفر نے کہا کہ روہنگیا کیمپ میں شرپسندوں کے دو گروپوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کی اطلاع کے بعد جب وہ ابتدائی گھنٹوں میں جائے واقع پر پہنچے تو تین لاشیں برآمد ہوئیں۔ دو دیگر زخمی ہسپتال لے جاتے وقت دم توڑ گئے۔ واقعہ میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے مہم چلائی جا رہی ہے۔

روہنگیاؤں نے کہا کہ کیمپ پر اپنا کنٹرول قائم کرنے کے لیے ارسا اور آر ایس او کے درمیان کچھ عرصے سے جدوجہد جاری ہے۔ اس وجہ سے دونوں فریقوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں پانچ افراد مارے گئے۔ اس واقعہ سے پورے کیمپ میں افراتفری مچ گئی۔

اے پی بی این کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (آپریشن اینڈ میڈیا) فاروق احمد نے کہا کہ کیمپ میں کئی مسلح گروپوں کے درمیان اندرونی تنازعہ کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

 دریں اثنا، آج علی الصبح دو عسکریت پسند گروپوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ابتدائی طور پر اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ یہ سب ارسا کے ممبر تھے۔

فاروق احمد نے کہاکہ "ارسا کون ہے اور آر ایس او کون ہے یہ مسئلہ نہیں ہے۔ کیمپ میں دہشت گردی کی کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ جرائم میں ملوث افراد کو کٹہرے میں لایا جائے گا۔ قاتلوں کی گرفتاری کے لیے آپریشن جاری ہے۔‘‘

a3w
a3w