فہیم قریشی کی شکایت پر تلنگانہ اسٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن نے لیا کوشک ریڈی کے خلاف نوٹس، ڈی جی پی سے رپورٹ طلب
یہ شکایت حضورآباد کے ایم ایل اے کی جانب سے کریم نگر کے پولیس کمشنر غوث عالم کے خلاف مبینہ طور پر مذہب کو نشانہ بناتے ہوئے دیے گئے بیانات سے متعلق ہے، جس پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔
تلنگانہ اسٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن نے تلنگانہ مائنارٹی ریزیڈینشل ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز سوسائٹی (ٹی جی ایم آر ای آئی ایس) کے وائس چیئرمین فہیم قریشی کی جانب سے حیدرآباد کے حضورآباد کے ایم ایل اے پڈی کوشک ریڈی کے خلاف درج کی گئی شکایت پر نوٹس لیتے ہوئے اہم قدم اٹھایا ہے۔
یہ شکایت حضورآباد کے ایم ایل اے کی جانب سے کریم نگر کے پولیس کمشنر غوث عالم کے خلاف مبینہ طور پر مذہب کو نشانہ بناتے ہوئے دیے گئے بیانات سے متعلق ہے، جس پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔
تلنگانہ اسٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن نے اس معاملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے تلنگانہ کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس واقعہ سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔ کمیشن کے جاری کردہ نوٹس کے مطابق ڈی جی پی کو 20 فروری تک رپورٹ جمع کرانی ہوگی، جبکہ اسی روز صبح 11 بجے اس معاملے کو مزید غور و خوض کے لیے سماعت کے لیے رکھا گیا ہے۔ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد مناسب کارروائی پر غور کیا جائے گا۔
یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ فہیم قریشی نے یہ شکایت آج ہی ریاستی انسانی حقوق کمیشن میں تلنگانہ وقف بورڈ کے چیئرمین خسرو پاشا، عثمان الہاجری اور دیگر سینئر کانگریس قائدین کے ہمراہ درج کرائی تھی۔ شکایت درج ہونے کے فوراً بعد کمیشن نے کارروائی کرتے ہوئے ڈی جی پی کو ہدایات جاری کیں، جسے اس معاملے میں پہلی باضابطہ پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل ایم ایل اے کوشک ریڈی کی جانب سے کریم نگر کے پولیس کمشنر غوث عالم کے مذہب کو نشانہ بناتے ہوئے بعض بیانات دیے گئے تھے، جن میں ان پر مبینہ طور پر مذہبی تبدیلی کی کوششوں کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ ان بیانات کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید تنقید ہوئی اور معاملہ طول پکڑ گیا۔
فہیم قریشی کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات نہ صرف فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ ایک حاضر سروس آئی پی ایس افسر کے وقار اور ادارہ جاتی وقعت کو بھی مجروح کرتے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اس معاملے میں غیرجانبدارانہ اور قانونی کارروائی کی جائے۔
تلنگانہ اسٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن نے پولیس رپورٹ موصول ہونے کے بعد 20 فروری کو اگلی سماعت مقرر کی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد تلنگانہ میں سیاسی ماحول مزید گرم ہو گیا ہے اور عوامی نمائندوں کے بیانات، سرکاری افسران کے تحفظ اور جوابدہی پر ایک بار پھر بحث تیز ہو گئی ہے۔