تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس یونین کی وزیر اطلاعات و کمشنر سے ملاقات، ایکریڈیٹیشن کارڈس میں کمی پر تشویش
تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس یونین (ٹی یو ڈبلیو جے یو) نے ریاستی وزیر برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ پی سرینواس ریڈی اور کمشنر اطلاعات و تعلقاتِ عامہ محترمہ ایچ پرینکا سے ملاقات کرتے ہوئے میڈیا ایکریڈیٹیشن سے متعلق حال ہی میں جاری کردہ سرکاری حکم نامہ G.O.Ms.No.252 مورخہ 12 دسمبر 2025 پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
حیدرآباد: تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس یونین (ٹی یو ڈبلیو جے یو) نے ریاستی وزیر برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ پی سرینواس ریڈی اور کمشنر اطلاعات و تعلقاتِ عامہ محترمہ ایچ پرینکا سے ملاقات کرتے ہوئے میڈیا ایکریڈیٹیشن سے متعلق حال ہی میں جاری کردہ سرکاری حکم نامہ G.O.Ms.No.252 مورخہ 12 دسمبر 2025 پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
یونین کے ریاستی صدر ڈاکٹر محمد شجاع الدین افتخاری اور ریاستی جنرل سکریٹری مفتی محمد رئیس الدین کی جانب سے پیش کی گئی تحریری نمائندگی میں کہا گیا کہ نئے جی او کے نفاذ کے نتیجے میں پرنٹ، الکٹرانک اور کیبل میڈیا کے لیے جاری کیے جانے والے ایکریڈیٹیشن کارڈس کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس سے ریاست بھر کے صحافیوں کے حقوق بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
نمائندگی میں اس امر کی نشاندہی کی گئی کہ سابقہ سرکاری حکم نامہ G.O.Ms.No.239 مورخہ 15 جولائی 2016 کے تحت ایکریڈیٹیشن کارڈس کی تعداد نسبتاً زیادہ تھی، تاہم نئے جی او میں اضافہ کے بجائے کمی کر دی گئی ہے، جو صحافی برادری کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔
ٹی یو ڈبلیو جے یو نے مطالبہ کیا کہ تمام زمروں، خصوصاً پرنٹ اور الکٹرانک میڈیا میں، ایکریڈیٹیشن کارڈس کی تعداد کو سابقہ جی او سے بہتر کیا جائے۔ یونین نے یہ بھی مطالبہ رکھا کہ 25 ہزار تا 75 ہزار، 15 ہزار تا 25 ہزار اور 2 ہزار تا 15 ہزار سرکولیشن رکھنے والے اخبارات کو منڈل سطح پر بھی ایکریڈیٹیشن فراہم کی جائے، تاکہ دیہی اور عوامی مسائل کی مؤثر کوریج ممکن ہو سکے۔
مزید مطالبات میں کہا گیا کہ کیبل ٹی وی چینلس کو سابقہ روایت کے مطابق ریاستی اور ضلعی سطح پر ایکریڈیٹیشن کارڈس جاری کیے جائیں، جبکہ فری لانس صحافیوں کے لیے 10 سال اور سینئر صحافیوں کے لیے 25 سال کے تجربے کی شرط پر بھی نظرِ ثانی کی جائے۔
یونین کے وفد نے اس موقع پر کہا کہ اردو صحافت اقلیتی اور محروم طبقات تک حکومت کی آواز پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، اور ایکریڈیٹیشن کارڈس کی تعداد میں کمی اردو صحافت کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
آخر میں تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس یونین نے وزیر اور کمشنر اطلاعات سے پرزور اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لیتے ہوئے G.O.Ms.No.252 میں ضروری ترامیم کریں، تاکہ صحافیوں کو انصاف، برابری اور پیشہ ورانہ تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
ملاقات کے دوران وفد میں ڈاکٹر ساجد معراج (سرپرست، ٹی یو ڈبلیو جے یو) اور سید یسین علی (صدر، ٹی یو ڈبلیو جے یو ضلع نظام آباد) بھی شامل تھے۔