انٹرٹینمنٹ

پنکج ادھاس کا انتقال

غزل گلوکاری کو ایک نئی جہت دینے والے لیجنڈری گلوکار پنکج ادھاس کا آج انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 72 برس تھی۔ وہ طویل عرصہ سے بیمار تھے اور بریچ کینڈی ہاسپٹل ممبئی میں زیرعلاج تھے۔ تاہم آج صبح گیارہ بجے ان کا انتقال ہوگیا۔

ممبئی: غزل گلوکاری کو ایک نئی جہت دینے والے لیجنڈری گلوکار پنکج ادھاس کا آج انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 72 برس تھی۔ وہ طویل عرصہ سے بیمار تھے اور بریچ کینڈی ہاسپٹل ممبئی میں زیرعلاج تھے۔ تاہم آج صبح گیارہ بجے ان کا انتقال ہوگیا۔

خاندانی ذرائع نے اس بات کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ بہت افسوس کے ساتھ ہمیں یہ خبر دینے جارہے ہیں کہ لیجنڈری گلوکار پنکج ادھاس کا 26 فروری پیر کو صبح گیارہ بجے انتقال ہوگیا۔ وہ طویل عرصہ سے بیمار تھے۔

انہوں نے بتایا کہ پنکج ادھاس کو کینسر کا عارضہ لاحق ہوگیا تھا اور کچھ مدت سے انہوں نے لوگوں سے ملنا جلنا چھوڑ دیا تھا۔ ان کی آخری رسومات منگل 27 فروری کو ادا کی جائیں گی۔ پنکج ادھاس کی دختر نایاب نے بھی اپنے والد کے انتقال کی سوشیل میڈیا پر تصدیق کی ہے۔

پنکج ادھاس 17 مئی 1951 کو راجکوٹ، گجرات کے قریب جیٹ پور میں ایک زمیندار گجراتی خاندان میں پیدا ہوئے۔ گھر میں موسیقی کے ماحول کی وجہ سے پنکج ادھاس بھی موسیقی میں دلچسپی لینے لگے۔ پنکج ادھاس نے محض سات سال کی عمر میں گانا شروع کیا۔

ان کے بڑے بھائی منہر ادھاس نے ان کے شوق کو پہچانا اور انہیں اس راستے پر چلنے کی ترغیب دی۔ منہر ادھاس اکثر موسیقی سے متعلق پروگراموں میں حصہ لیتے تھے۔ انہوں نے اپنے ساتھ پنکج ادھاس کو بھی شامل کرلیا۔

ایک بار پنکج کو ایک کنسرٹ میں حصہ لینے کا موقع ملا جہاں انہوں نے گانا ‘اے میرے وطن کے لوگوں ذرا آنکھ میں بھر لو پانی’ گایا، اس گانے کو سن کر سامعین جذباتی ہو گئے۔

ان میں سے ایک نے خوش ہو کر پنکج ادھاس کو 51 روپے دئیے۔ اسی دوران پنکج ادھاس نے راجکوٹ کی سنگیت ناٹیہ اکیڈمی میں شمولیت اختیار کی اور طبلہ بجانا سیکھنا شروع کیا۔

کچھ برسوں کے بعد پنکج ادھاس کا خاندان بہتر زندگی کی تلاش میں ممبئی آگیا۔ پنکج ادھاس نے اپنی گریجویشن مشہور سینٹ زیویئر کالج، ممبئی سے مکمل کی۔

اس کے بعد انہوں نے پوسٹ گریجویشن کی تعلیم کے لیے داخلہ لیا لیکن بعد میں ان کی دلچسپی موسیقی کی طرف بڑھ گئی اور انہوں نے استاد نورنگ جی سے موسیقی کی تعلیم لینا شروع کی۔

پنکج ادھاس کے سینما کیریئر کا آغاز 1972 میں ریلیز ہونے والی فلم (کامنا) سے ہوا لیکن کمزور اسکرپٹ اور ہدایت کاری کی وجہ سے فلم ٹکٹ کھڑکی پر بری طرح ناکام ثابت ہوئی۔

اس کے بعد پنکج ادھاس غزل گلوکار بننے کے مقصد سے اردو کی تعلیم حاصل کرنے لگے۔ سال 1976 میں پنکج ادھاس کو کناڈا جانے کا موقع ملا اور وہ ٹورنٹو میں ایک دوست کے ساتھ رہنے لگے۔ ان دنوں پنکج ادھاس کو اپنے دوست کی سالگرہ کی تقریب میں گانے کا موقع ملا۔

اسی تقریب میں ایک صاحب بھی موجود تھے جو ٹورنٹو ریڈیو میں ہندی پروگرام پیش کیا کرتے تھے۔ انہوں نے پنکج ادھاس کی صلاحیتوں کو پہچانا اور انہیں ٹورنٹو ریڈیو اور دوردرشن میں گانے کا موقع دیا۔ ٹورنٹو ریڈیو اور دوردرشن میں تقریباً دس مہینے تک گانے کے بعد پنکج ادھاس کا من اس کام سے اچاٹ ہوگیا۔