جنگ بدر حق وباطل کا فیصلہ کن معرکہ
ہزاروں روزہ دار کی اجتماعی افطارمیں مشرقی وسطیٰ کی صورتحال پر عالمی امن وسلامتی کیلئے خصوصی دعا
جنگ بدر میں مسلمانوں کی اصل طاقت ایمان ،صبر اور تحاد تھی
ہزاروں روزہ دار کی اجتماعی افطارمیں مشرقی وسطیٰ کی صورتحال پر عالمی امن وسلامتی کیلئے خصوصی دعا
کالی کٹ (عبدالکریم امجدی )
اسلامی تاریخ میں جنگِ بدر کو ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن معرکے کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ جنگ 17 رمضان المبارک سن 2 ہجری کو پیش آئی۔ اس جنگ میں مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی جماعت نے اللہ تعالیٰ کی مدد سے ایک بڑی اور طاقتور فوج کو شکست دی۔اس جنگ کو اسلام میں "یوم الفرقان” یعنی حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا دن بھی کہا جاتا ہے۔
اس جنگ نے مسلمانوں کے حوصلے کو بلند کیا اور اسلام کی طاقت کو مضبوط کیا۔آج یہاں نالج سٹی کے جامع الفتوح انڈین گرانڈ مسجد میں منعقدہ بدر الکبریٰ روحانی دعائیہ امن اجتماع میں ہزاروں کے جم غفیر مجمع سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے انڈین گرانڈ مفتی شیخ ابوبکر احمد نےکہاکہ جنگ بدر میں اصل طاقت ایمان کی تھی ۔
یہ جنگ ہمیں ایمان ،صبر ،اتحاد اور اللہ تعالیٰ پر مکمل اعتماد کا درس دیتی ہے ۔شیخ نے کہاکہ اگر مسلمان ایمان پر استقامت ،اتحاد ،صبر اور حوصلہ سے کام لیں تو فتح ونصرت ان کا قدم چومے گی ۔مشرقی وسطیٰ میں جنگ کے حوالے سے شیخ نے کہاکہ عالمی رہنماں قیام امن کیلئے سفارتی کوششوں کو ترجیح دیں ،جنگ کسی نتیجہ کا حال نہیں ہے ۔
انہوں نے کہاکہ موجودہ بحران اور جنگ کے خاتمہ کیلئے امن ومذاکرات کا راستہ اپنا یا جائے ۔شیخ نے کہاکہ جنگ میں ہمیشہ بے گناہ اور معصوم افراد کا نقصان ہوتا ہے ۔اس لئے موجودہ حملوں کو روکنے اور عالمی امن کیلئے بین الاقوامی اداروں کو سنجیدگی سے پہل کرنا چاہئے ۔
شیخ نے کہاکہ مشرق وسطیٰ کے ممالک میں لاکھوں افراد روزگار سے وابستہ ہیں ،ان پرخوف اور کشیدگی کا ماحول برقرار ہے ۔ جس سے عالمی معیت اور زندگی اجیرن بن گئی ہے ۔ شیخ ابوبکر احمد نے عوام سے اپیل کی ہے کہ امن وسلامتی کیلئے ہر شخص کو دعا کرنی چاہئے ۔
امن کانفرنس سے ڈاکٹر عبدالحکیم ازہری نے کہاکہ مرکزی حکومت خلیج اور مشرق وطیٰ میں قیام امن کیلئے مداخلت کرے ۔انہوں نے کہاکہ جنگ سے کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں ہوسکتا ،ہندوستان امن اور استحکام کا حامی ہے ۔ ڈاکٹر ازہری نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جھوٹی خبروں اور افواہ پر دھیان نہ دیں ۔ جذبات سے کام نہ لیں ۔ صبر اور حوصلہ کو بلند رکھیں ۔
مرکز ڈائیریکٹر جنرل مولانا سی محمد فیضی نے کہاکہ دین پر مضبوطی سے قائم رہنے والوں کو دنیا ہمیشہ یاد رکھتی ہے ۔جنگِ بدر ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب ایمان مضبوط ہو، صبر اور حوصلہ ہو تو بڑی مشکلات پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔ یہی وہ اصول ہیں جنہوں نے بدر کے دن مسلمانوں کو عظیم کامیابی عطا کی۔
کانفرنس کا افتتاح سنی جمعیۃ العلما کیرالہ کے صدر ای سلیمان مسلیار نے ۔انہوں نے اپنے ناصحانہ خطاب میںاسلام کے فروغ کیلئے اصحاب بدر کی زندگی کو نمونہ قرار دیا ۔
کانفرنس کا آغاز جمعہ نماز بعد مجلس ختم القرآن سے ہوا،عصر بعد ہزاروں کی تعداد میں روزہ دار اجتماعی افطار میں شریک ہوئے افطار کے وقت ساعۃ الاجابہ میں خصوصی دعائیں ہوئیں۔ اس موقع پر قصیدہ حمزیہ ،بدر مولود ،اسماء البدر،بردہ مجلس ،حلقہ ذکر ،روحانی اجلاس ،جلسہ اعتکاف،توبہ مجلس مسلسل سحری تک جاری رہا ۔ آخر میں شیخ ابوبکر احمد کی قیادت میں سادات کیرالہ نے اپنے روایتی انداز میں عالمی وامن وسلامتی کیلئے خصوصی دعائیں کیں ۔ فلک شگاف آمین کی صدائوں سے مجمع گونج اٹھا ۔کانفرنس میں کیرالہ سمیت دیگر ریاستوں سے علما ،سادات ،ملی وسماجی شخصیات سمیت ہزاروں کی تعداد میں فرزندان توحید نے شرکت کی ۔
۔