کرناٹک

ریاست پر قرض کا بوجھ، کویتا کی وزیراعلی کو طنزیہ مبارکباد

اانہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت کو رورل الیکٹریفکیشن کارپوریشن کی جانب سے ایک انتباہی مکتوب موصول ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ریاست پر اس وقت جملہ 1393.65 کروڑ روپے واجب الادا ہیں۔

حیدرآباد: بی آر ایس کی ایم ایل سی کویتا نے وزیر اعلیٰ تلنگانہ ریونت ریڈی کو طنزیہ انداز میں مبارکباد دی کہ انہوں نے صرف 18 مہینوں میں ریاست پر دو لاکھ کروڑ روپے کا قرض چڑھا دیا۔

متعلقہ خبریں
ریونت ریڈی کرپشن کے شہنشاہ، تلنگانہ کے مفادات کو نظرانداز کر رہے ہیں: کویتا
وزیر اعلیٰ تلنگانہ نے تلنگانہ قانون ساز کونسل کے نئے ہال کا افتتاح کیا۔ خواتین کو عالمی دن کی مبارکباد
معروف تپ دق (ٹی بی) کے ماہر ڈاکٹر اڈیپو راجیشم کو “دی بیسٹ ٹی بی آفیسر،” ایوارڈ
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔

کویتا نے الزام لگایا کہ کوڑنگل لفٹ اسکیم کے لیے تو ایک چمچ مٹی تک نہیں اٹھائی گئی لیکن قرض پر قرض لیا جا رہا ہے۔انہوں نے میڈیاسے بات کرتے ہویے کہا کہ ان کی تلنگانہ جاگروتی تنظیم ریونت ریڈی کو ’کرپشن چکرورتی‘ یعنی بدعنوانی کا شہنشاہ قرار دے رہی ہے۔


اانہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت کو رورل الیکٹریفکیشن کارپوریشن کی جانب سے ایک انتباہی مکتوب موصول ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ریاست پر اس وقت جملہ 1393.65 کروڑ روپے واجب الادا ہیں۔

ان میں سے 319.74 کروڑ روپے تلنگانہ اسٹیٹ واٹر ریسورسس انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن اور 292.75 کروڑ روپے کرشنا آئی پی سی ایل کے اہم واجبات میں شامل ہیں۔


آرای سی نے واضح کیا ہے کہ اگر یہ بقایا جات 28 جون اور 29 جون 2025 تک ادا نہ کیے گئے تو ریاست کو نان پرفارمنگ ایسیٹ زمرے میں شامل کر دیا جائے گا جس سے ریاست کی مالی ساکھ پر شدید اثر پڑ سکتا ہے۔