تلنگانہ

اردو یونیورسٹی کی اراضی واپس لینے حکومت کا کوئی ارادہ نہیں۔وزیراقلیتی بہبود محمد اظہر الدین کی وضاحت

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی اراضی سے متعلق جاری قیاس آرائیوں پر تلنگانہ کے وزیراقلیتی بہبود محمد اظہر الدین نے اہم وضاحت جاری کی ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ حکومت کا اردو یونیورسٹی کی اراضی واپس لینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور یونیورسٹی کی اراضی مکمل طور پر محفوظ ہے۔

حیدرآباد: مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی اراضی سے متعلق جاری قیاس آرائیوں پر تلنگانہ کے وزیراقلیتی بہبود محمد اظہر الدین نے اہم وضاحت جاری کی ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ حکومت کا اردو یونیورسٹی کی اراضی واپس لینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور یونیورسٹی کی اراضی مکمل طور پر محفوظ ہے۔

متعلقہ خبریں
منصف ٹی وی کے سی ای او حبیب نصیر مانو کے بورڈ آف اسٹڈیز میں شامل، تین سالہ میعاد کے لیے تقرری
گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی
ٹولی چوکی میں جلسہ یومُ الفرقان کا انعقاد
وزیر اعلیٰ تلنگانہ نے تلنگانہ قانون ساز کونسل کے نئے ہال کا افتتاح کیا۔ خواتین کو عالمی دن کی مبارکباد
محبوب نگر میں جامع مسجد میں دعوتِ افطار، مسلم کارپوریٹرس کی تہنیتی تقریب میں رکن اسمبلی اینم سرینواس ریڈی کی شرکت


انہوں نے بتایا کہ اراضی کے سلسلہ میں حالیہ تنازعہ آڈٹ ریمارکس کی بنیاد پر ضلع کلکٹر کی جانب سے جاری کردہ ایک نوٹس کے بعد شروع ہوا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس نوٹس کا مقصد صرف یہ تھا کہ یونیورسٹی اپنی اراضی کا موثر استعمال کرے نہ کہ اراضی چھیننا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ تین دن قبل یونیورسٹی کے رجسٹرار نے کلکٹر سے ملاقات کی اور انہیں اراضی کے سلسلہ میں مستقبل کے منصوبوں سے واقف کروایا جس کے بعد کلکٹر نے نوٹس واپس لینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔


انہوں نے کہا کہ اس معاملہ پر کافی بیانات دیئے گئے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ حکومت کی نیت بالکل صاف ہے۔

وزیرموصوف نے واضح کیا کہ کلکٹر نے اس سلسلہ میں ایک پریس نوٹ بھی جاری کر دیا ہے جس میں صورتحال واضح کر دی گئی ہے۔ عوام اور یونیورسٹی انتظامیہ کو اس سلسلہ میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔